انوارالعلوم (جلد 18) — Page 152
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۵۲ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید ہے ، اُس کو ضائع کرتا ہے تو اُس کو محلے والے بھی اور مالک مکان بھی بُرا کہتے ہیں۔لیکن ایک اور شخص جو ایک مکان کی دیواریں بنا کر چھوڑ دیتا ہے اور مکان کی تعمیل نہیں کرتا اس کی وفات کے بعد اس کے محلے والے ہی اُسے بُرا نہیں کہتے اُس کی اولا د بھی اُسے بُرا کہتی ہے کہ ہمارے باپ نے یونہی روپیہ ضائع کرا دیا۔اگر وہ یہاں روپیہ نہ لگا تا تو کسی اور جگہ کام آ جاتا۔اور ہمسائے کہتے ہیں اس کی اینٹیں گرتی ہیں، بے چارے راہ گیروں کے سروں پر لگتی ہیں ان کے سر پھٹ جاتے ہیں یا لوگوں کو ٹھوکریں لگتی ہیں اگر مکان بنانا تھا تو مکمل بناتا نہیں تو نہ بناتا۔اب آپ لوگ بھی سوچیں کہ آپ لوگ سارا قرآن شریف ختم کر کے نہیں جا سکتے اس لئے آپ بھی علیم دین کے مکان کی دیوار میں کھڑی کر کے جا رہے ہیں ، نہ چھت پڑے گی ، نہ دروازے لگیں گے، نہ پلستر ہوگا پس آپ کو یہ وعدہ کر لینا چاہیئے اور فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اب ہم اپنی ساری توجہ اس طرف لگا دیں گے اور اس سارے علم کو حاصل کر کے چھوڑیں گے اور آپ کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اگلے سال پھر انشَاءَ اللہ آئیں گے اور اپنے علم کی تکمیل کریں گے یہاں تک کہ سارا علم آ جائے۔دوسرے آپ میں سے جسے خدا تعالیٰ اگلے سال آنے کی پھر توفیق دے وہ دو تین اور کو تحریک کر کے ضرور اپنے ساتھ لائے تا علم حاصل کر کے واپس اپنے وطنوں میں جا کر پڑھانے والوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے۔ہماری جماعت اب اتنی ہے کہ ہزار ہا بھی اس کے لئے کافی نہیں ہو سکتے۔اب اسی نوے کا تو سوال ہی نہیں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ہزار ہا ایسے مبلغ پیدا کریں جنہوں نے قرآن شریف پڑھا ہوا ہو، تا وہ اپنے اپنے وطن واپس جا کر لوگوں کو قرآن شریف پڑھا ئیں۔یہی چیز تھی جس کی وجہ سے مجھے خواہش تھی کہ میں آپ لوگوں میں آ کر تقریر کروں اور آپ کو آپ کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاؤں۔اب میں آپ لوگوں کو مختصر الفاظ میں کچھ ایسی باتیں بتا تا ہوں جو قرآن کریم کے سمجھنے کے متعلق ہیں۔جب آپ قرآن شریف پڑھیں گے تو وہ باتیں جو اُستاد آپ کے کانوں میں ڈالیں گے اگر آپ اُن کو یا درکھیں گے تو آپ کی حیثیت آنحضرت ﷺ کے مقولہ کے مطابق صرف ایسی ہوگی جیسے ایک زمین پر پانی پڑتا ہے اور وہ اُسے محفوظ رکھتی ہے دوسرے لوگ اس