انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 148

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید اُس وقت کوئی دوسرا وہاں نہ پہنچا۔بزدل آدمی کو جان زیادہ پیاری ہوتی ہے جب دیکھا کہ اتنی دیر سے کوئی نہیں آیا تو کہنے لگا اچھا تم کلمہ بتاتے جاؤ میں پڑھتا جاتا ہوں۔پٹھان نے کہا خوتم آپ پڑھو۔بنیے نے کہا میں ہندو ہوں مجھے کلمے کا کیا پتہ۔اس پر پٹھان بولا خو تمہارا قسمت بڑا خراب ہے کلمہ تو مجھ کو بھی نہیں آتا ، نہیں تو آج تم مسلمان ہو جاتا اور ہم جنت میں چلا جاتا۔یہی قرآن نہ جاننے والوں کی حالت ہے۔اس حالت میں کیا چیز ہے جو ہم دنیا کے سامنے لے کر جانا چاہتے ہیں۔اگر ہم بھی قرآن شریف جو خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی طرف پیغام ہے اس کو نہیں جانتے ، اگر ہمیں اس کا کچھ علم ہی نہیں اور اس کی بجائے ہم اپنی باتیں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم دنیا میں کامیاب ہو جائیں گے تو یہ غلط بات اور لغو خیال ہے۔ہر احمدی کو قرآن کریم پڑھنا چاہئے اور جو پڑھنا نہیں جانتے اُن کو سنا کر قرآن کریم سمجھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ ہمارا اولین فرض ہے۔اگر ہم یہ ارادہ کر لیں کہ سو فیصدی افراد کو قرآن شریف کا ترجمہ سمجھا دیں گے اور اگر ہم اس میں کامیاب ہو جائیں تو پھر ہماری فتح میں کوئی شک ہی نہیں اور ہماری روحانی حالت میں ایک عظیم الشان تغییر آ جائے گا۔تم یہ کہہ سکتے ہو کہ دوسرے مسلمانوں میں بعض لوگ قرآن شریف جانتے ہیں مگر اُن کے حالات بھی خراب ہیں پھر ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ جو لوگ اس کو جاننے کی کوشش کریں گے اُن کی یہ حالت نہ ہوگی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو لفظوں کا جاننا اور حکمت کا جاننا دو مختلف اشیاء ہیں۔دوسرے میں کہتا ہوں کہ تم مجھے یہ بتاؤ کہ کیا یہ واقعہ ہے یا نہیں کہ جب ملک میں طاعون یا ہیضہ نہیں ہوتا تو اُس ملک کا کمزور سے کمزور انسان بھی طاعون اور ہیضہ سے محفوظ ہوتا ہے اور جب ملک میں طاعون اور ہیضہ ہوتا ہے تو پھر طاقتور سے طاقتور انسان بھی طاعون اور ہیضہ سے محفوظ نہیں ہوتا۔اسی طرح جس قوم میں جاہل بکثرت موجود ہوتے ہیں وہاں عالموں کا ایمان بھی خطرہ میں ہوتا ہے اور جس قوم میں علم اچھی طرح پھیلا دیا جاتا ہے اور جہالت کو دور کر دیا جاتا ہے اُس میں عالموں کے ایمان کی مضبوطی کے ساتھ جاہلوں کا ایمان بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کچھ لوگ غیروں میں بھی قرآن شریف جاننے والے موجود ہیں لیکن اوّل