انوارالعلوم (جلد 18) — Page 149
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۴۹ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید تو اُن کا علم محض لفظی ہے دوسرے یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ اُن کے دائیں بائیں کون کھڑے ہیں؟ ان کے دائیں بائیں کثرت سے جاہل اور خدا سے دُور لوگ کھڑے ہیں جو اُن کو اپنی طرف کھینچ رہے ہیں پس وہ تو چند لفظی طور پر قرآن پڑھے ہوئے لوگ ہیں جو کہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ قوم کو، جبکہ ہماری جماعت میں بے شک حقیقی طور پر قرآن جاننے والے لوگ موجود ہیں لیکن اِن کی تعداد اس قدر کم ہے کہ وہ بھی اپنی جماعت کو پورا فائدہ نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ نسبتی طور پر اتنے تھوڑے ہیں کہ ان کے نور پر جہالت کی ظلمت کے چھا جانے کا ہر وقت خطرہ رہتا ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ عوام احمد یوں تک بھی قرآن شریف پہنچا ئیں۔ان تک قرآن شریف پہنچانا نہ صرف ان کے لئے ضروری ہے بلکہ اس میں اپنی بھی حفاظت ہے۔احمق ہے وہ انسان جس کے گاؤں میں ہیضہ آجائے اور وہ کہے کہ میرے گاؤں میں صرف ایک انسان کو ہیضہ ہوا ہے اگر وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس گاؤں میں ایک آدمی کو ہیضہ ہوا ہے تو یقیناً اس کا بیٹا بھی ہیضہ سے محفوظ نہیں لیکن اگر اس کے گاؤں کے پر لے کنارے پر ہیضہ کی ایک واردات ہوتی ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ میرے اپنے بیٹے کو ہیضہ ہوا ہے تو نہ صرف وہ بلکہ اُس کا گاؤں بھی وہ ہیضے سے بچ جائے گا۔اسی طرح اگر قوم کے تمام افراد روحانی عالم نہیں تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گاؤں میں ہیضہ آ گیا اور جب ہیضہ آ گیا تو کوئی نوجوان بھی اس سے محفوظ نہیں۔اگر اس قوم میں سے گلی طور پر جہالت نکال دیں اور جہالت کا مرض دور کر دیں اور اگر اپنے تمام افراد کوگلی طور پر اسلامی علوم سے آشنا کر دیں تو پھر گویا ہم نے ہیضہ کو کلی طور پر اپنی قوم سے نکال دیا اور اس صورت میں صرف مضبوط انسان ہی نہیں بلکہ کمزور ایمان والے انسان کو بھی روحانی ہیضہ نہیں ہوسکتا۔پس آپ لوگ بھی جو یہاں پڑھنے کے لئے آئے ہیں آپ کا یہ کام نہیں کہ یہاں سے پڑھ کر جائیں اور علم کو اپنے تک ہی محدود رکھیں بلکہ آپ کا کام یہ ہے کہ جو کچھ پڑھ کر جائیں لوگوں کو جا کر سنائیں۔ہر شخص جو تم میں سے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کر کے جائے گا وہ یہ ذمہ داری لے کر جائے گا کہ دوسروں کو بھی علم پڑھائے۔اگر وہ واپس جا کر اپنے علاقے کے ہر فرد کو قرآن نہیں سکھائے گا تو وہ خدا تعالیٰ کے سامنے مجرم کی حیثیت میں پیش ہوگا۔جب تک یہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع پیدا نہیں ہوا تھا تم مجرم نہیں تھے مگر اب جبکہ وہ موقع