انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 143

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۴۳ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید اس کام کو پورا کرنے کے لئے میں نے اس تحریک کو شروع کیا ہے اور اس دفعہ ستر اسی آدمی آئے ہیں۔میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ ۷۰ ۸۰ آدمی کافی ہیں ہاں وہ ۷۰ ۸۰ آدمی بنیاد کا کام تو دے سکتے ہیں مگر ہمارے لئے مکمل عمارت کا کام نہیں دے سکتے۔لاکھوں کی جماعت میں سے۰ ۰۷ ۸ آدمیوں کا تیار ہو جانا کوئی حیثیت نہیں رکھتا اس کی تو اتنی بھی حیثیت نہیں جتنی آئے میں نمک کی۔یہ تو اُسی وقت ہمارے کام آ سکتے ہیں جب یہ اپنی جماعتوں میں جا کر جو کچھ انہوں نے پڑھا ہے اُسے اُن لوگوں کو پڑھا ئیں جو پڑھ سکتے ہیں اور باقیوں کو سننے اور یاد کرنے پر مجبور کریں اور اتنا سنائیں کہ اُن کو یاد ہو جائے اور اس طرح اُن کو یاد کرائیں کہ ہماری جماعت کے تمام افراد کو قرآن شریف کا علم حاصل ہو جائے۔آخر ہمیں سوچنا چاہئے کہ کیا وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں رہتے ہوئے تیرہ یا پندرہ سال کے اندراندرایسی جماعت تیار ہوگئی جو ساری دنیا کی معلم ثابت ہوئی لیکن ہم پر پچاس سال گزر گئے ہیں ابھی تک ہم میں وہ تغیر نہیں پیدا ہوا اور نہ ہم سے وہ تغیر پیدا ہوا ہے۔اگر چہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کے لئے انہیں ایک سہولت حاصل تھی کہ جو باتیں اُن کے سامنے کی جاتی تھیں وہ اُن کی اپنی زبان میں ہوتی تھیں اس لئے ہر بات سنتے ہوئے اسے ساتھ ساتھ سمجھتے بھی جاتے تھے ان کے لئے اتنا کافی تھا کہ اگر کوئی انسان ان کے کان میں صرف اتنا ہی کہہ دیتا کہ الْحَمْدُ لِلهِ تو اُن کی زندگی کے لئے کافی تھا اسلئے کہ ان میں سے ہر ایک جانتا تھا کہ ال کے کیا معنی ہیں، وہ جانتا تھا کہ حمد کے کیا معنی ہیں ، وہ جانتا تھا کہ دال کے اوپر جو پیش ہے اُس کے کیا معنی ہیں ، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اللہ جس کے آخر میں ہ ہے اور جس کی ہ کے نیچے زیر ہے اس کے کیا معنی ہیں، وہ جانتا تھا الرحمن میں ال کیا کہتا ہے اور رحمن کیا ، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ الرَّحِیمِ کا ال کیا کہتا ہے اور رحیم کیا کہتا ہے، اور الرحیم کے نیچے جو زیر ہے وہ کیا کہتی ہے ، وہ یہ سب کچھ جانتا تھا اس لئے اس کیلئے اَلحَمدُ کے الفاظ کا سننا ہی کافی ہو جاتا تھا مگر ہمارے ملک کے لوگ جو عربی زبان سے بلکلی نا واقف ہیں ان سے بسم اللہ کی ب سے لیکر وَالنَّاسِ کی س تک قرآن سُن جاؤ اگر انہوں نے ناظرہ پڑھا ہوا ہے یا قرآن حفظ کیا ہوا ہے تو وہ سب کچھ سنا دیں گے لیکن یہ نہ جانتے ہوں گے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔وہ سمجھتے کچھ بھی نہیں