انوارالعلوم (جلد 18) — Page 115
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۱۵ اسلام کا اقتصادی نظام غرباء کی ضروریات کے پس ہمارے ملک کے امراء کو چاہئے کہ وہ وقت پر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اُن حقوق کو ادا کریں جو اُن پر متعلق امیروں کا فرض غرباء کے متعلق عائد ہوتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ کمیونزم کا پیدا ہونا ایک سزا ہے اُن لمبے مظالم کی جو اُمراء کی طرف سے غرباء پر ہوتے چلے آئے تھے لیکن اب بھی وقت ہے کہ وہ اپنی اصلاح کرلیں اور تو بہ سے اپنے گزشتہ گناہوں کو دُور کرنے کی کوشش کریں۔اگر وہ اپنی مرضی سے غرباء کو اُن کے حقوق ادا نہیں کریں گے تو خدا اس سزا کے ذریعہ اُن کے اموال اُن سے لے لیگا۔لیکن اگر وہ تو بہ کریں گے اور اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہو جائیں گے تو یہ مہیب آفت جو اُن کے سروں پر منڈلا رہی ہے اسی طرح چکر کھا کر گزر جائے گی جس طرح آندھی ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ کی طرف اپنا رُخ موڑ لیتی ہے۔اب یہ تمہارا اختیار ہے کہ چاہو تو اللہ تعالیٰ کے اُس محبت کے ہاتھ کو جو تمہاری طرف بڑھایا گیا ہے ادب کے ساتھ تھا مو اور اپنے اموال کو غرباء کی بہبودی کے لئے خرچ کرو اور اگر چاہو تو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو برداشت کر لو اور دولت اپنے پاس رکھو جو کچھ دنوں بعد تم سے باغیوں اور فسادیوں کے ہاتھ چھنوا دی جائے گی۔آخر میں میں اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ کمیونزم کی ترقی اور روسی اقتصادیات پر غور کرتے وقت ہمیں ایک اور اہم بات بھی مد نظر رکھنی چاہئے جو ایسے حالات میں کہی گئی ہے جبکہ روس کو دنیا میں کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔روس کے متعلق اڑہائی ہزار روس کیا ہے؟ ایک ایسا ملک ہے جس نے صرف تین چار سو سال سے اہمیت حاصل کی ہے اس سے سال پہلے کی ایک پیشگوئی پہلے وہ ایک پراگندہ قوم تھی۔صرف چند قبائل تھے جو تھوڑے تھوڑے علاقہ پر قابض تھے مگر اپنے علاقہ میں بھی اُس کو کوئی خاص طاقت حاصل نہیں تھی۔آج سے ایک ہزار سال پہلے وہ بہت ہی غیر معروف تھا اور اس قدر بے آباد اور ویران تھا کہ کوئی شخص اُس کی بے آبادی کی وجہ سے اس کی طرف منہ بھی نہیں کرتا تھا۔اور آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے تو اس سے کوئی شخص واقف بھی نہیں تھا۔شاذ و نادر کے طور پر جغرافیہ والوں کو اس کا علم ہو تو ہو ورنہ یہ اس قدر ویران تھا کہ کوئی شخص اس کی طرف منہ کرنے کے لئے