انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 114

انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۱۴ اسلام کا اقتصادی نظام حیح اقتصادی نظام ان تمام باتوں پر غور کرنے کے بعد میں سمجھتا ہوں ہر عظمند انسان اس نتیجہ پر ہی پہنچے گا کہ اصل اقتصادی نظام وہی ہے جو مذہب کے لئے گنجائش رکھے کیونکہ تھوڑے عرصہ پر اثر انداز ہونے والی اقتصادیات پر ایک لمبے عرصہ پر اثر انداز ہونے والی اقتصادیات کو قربان نہیں کیا جاسکتا۔اور اقتصادیات وہی اچھی ہیں جن میں ہر فرد کی ضروریات کو پورا کرنے کا سامان ہومگر اس کے ساتھ ہی ایک حد تک فردی ترقی کا راستہ بھی کھلا ہو تا کہ نیک رقابت پیدا ہوا اور بُری رقابت کچلی جائے۔اصل بات یہ ہے کہ کمیونزم ایک رد عمل ہے لمبے ظلم کا۔اسی وجہ سے یہ ظلم کے علاقوں میں کامیاب ہے لیکن امریکہ اور انگلستان وغیرہ میں کامیاب نہیں۔اسی طرح نیشلسٹ اور سوشلسٹ علاقوں میں بھی کامیاب نہیں۔کچھ عرصہ ہوا امریکہ کے ایک اخبار نے مزدوروں سے یہ سوال کیا کہ تم اپنے آپ کو کیپٹلسٹ سمجھتے ہو یا مڈل کلاس MIDDLE CLASS) میں سے سمجھتے ہو یا غریب کلاس میں سے سمجھتے ہو؟ اس سوال کے جواب میں اکثر جوابات میں یہ کہا گیا تھا کہ ہم اپنے آپ کو مڈل کلاس MIDDLE CLASS) میں سے سمجھتے ہیں۔جس کے معنی یہ ہیں کہ امریکہ کے مزدور کو یہ خیال بھی نہیں آتا کہ وہ غرباء میں سے ہے۔یہی وجہ ہے کہ کمیونزم امریکہ میں انگلستان سے بھی زیادہ ناکام رہا ہے کیونکہ وہاں دولت بہت زیادہ ہے اور دولت کی کثرت کی وجہ سے مزدوروں میں یہ احساس ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ غریب ہیں یا انہیں اپنے لئے کسی ایسے نظام کی ضرورت ہے جو اُن کی اس تکلیف کو دور کر سکے جس کا روٹی یا کپڑے کے ساتھ تعلق ہوتا ہے۔پس اصل علاج یہی ہے کہ (۱) اسلامی تعلیم کے ماتحت غرباء کو اُن کا حق دیا جائے اور (۲) اُمیدوں اور اُمنگوں کو بڑھا دیا جائے جیسے جرمنی اور اٹلی نے اپنے ملک کے لوگوں کو روپیہ نہیں دیا لیکن اُس نے اُن کی اُمنگوں کو بڑھا دیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو غالب اور فاتح اقوام میں سے سمجھنے لگے۔ترقی کے لئے اُمنگ کا پیدا ہونا نہایت ضروری ہوا کرتا ہے۔جس قوم کے دلوں میں سے اُمنگیں مٹ جائیں، اُس کی اُمید میں مر جائیں ، اُس کے جذبات سرد ہو جائیں اور غرباء کے حقوق کو بھی وہ نظر انداز کر دے اُس قوم کی تباہی یقینی ہوتی ہے۔