انوارالعلوم (جلد 18) — Page 113
اسلام کا اقتصادی نظام انوارالعلوم جلد ۱۸ اور اس میں سے بنزائن بہنے لگا۔روسی سپاہیوں نے جب یہ دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ شاید رم (RUM) یا بیئر (BEER) ہے۔چنانچہ انہوں نے بنزائن کو شراب سمجھ کر پینا شروع کر دیا۔قریباً ایک ہزار روسی سپاہیوں نے یہ بنـزائـن استعمال کی اور اُن میں سے درجنوں اس زہر کی وجہ سے مرگئے اور سینکڑوں بیمار ہو گئے۔قومی خدمت کا یہ ایک بہت بُرانمونہ ہے۔اتنے سپاہیوں کا اپنے قومی فرض کو بھول جانا اور بجائے قومی مال کی حفاظت کے اُسے اپنے استعمال میں لانے کی کوشش کرنا بتاتا ہے کہ عام سپاہی کی اقتصادی حالت اس قدرا چھی نہیں کہ وہ حقیقی یا فرضی لالچوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کم سے کم ایران میں رہنے والے روسی سپاہیوں کی حالت ایسی نہیں کہ یہ کہا جا سکے کہ روس نے اُن کی حالت کو بدل دیا ہے۔کمیونزم کے دعوئی مساوات کے انڈسٹری کے متعلق یہ حل طلب سوال ہے کہ کیا ہر انڈسٹری میں ایک سا کام ہے۔کوئلہ متعلق بعض حل طلب سوالات کی کان میں اور قسم کا کام ہے اور دُکان میں بیٹھنے کا اور کام ہے۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ درزی کو اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جو ہری کو اور کی اس کا کمیونزم میں کیا حل سوچا گیا ہے؟ کیا دُکانوں کا سرمایہ سب حکومت کا ہوتا ہے اور وہاں کی سب تجارت حکومت کے ہاتھ میں ہے پھر یہ بھی سوال ہے کہ اچھے اور بُرے ڈاکٹر اور اچھے اور بُرے وکیل کی فیس ایک ہی ہے یا اس میں اختلاف ہے؟ اگر اختلاف ہے تو کیوں ؟ اگر نہیں تو سوال یہ ہے کہ کیا سب لوگ اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں؟ اگر جاتے ہیں تو بہر حال وہ سب کا علاج نہیں کر سکتا پھر وہ کیا کرتا ہے؟ یا سب لوگ اچھے وکیل کے پاس جاتے ہیں؟ اگر جاتے ہیں تو وہ سب کے مقدمات نہیں لڑسکتا۔اگر سب مقدمات نہیں لیتا تو وہ اُن کا انتخاب کس طرح کرتا ہے؟ ایسے ہی بیسیوں سوالات ہیں جن پر غور کر کے مساوات کا حقیقی علم حاصل ہوسکتا ہے۔ان سوالات کے بغیر حقیقی مساوات کا علم ناممکن ہے۔مگر ان کے معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے اور جب تک ان باتوں کا جواب مہیا نہ کیا جائے کمیونزم کے حامی مساوات کا دعوی کرنے میں غلطی پر ہیں۔