انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 98

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۹۸ اسلام کا اقتصادی نظام دنیا کیلئے اقتصادی طور پر ایک سخت دھنگا دنیا کی ساری قومیں یہ تسلیم کرتی ہیں کہ کوئی ملک اکیلا زندہ نہیں رہ سکتا بلکہ وہ اس بات کا محتاج ہوتا ہے کہ دوسروں سے تعلقات پیدا کرے اور تجربہ اس کی صداقت پر گواہ ہے۔پس جب کہ روس ہمیشہ کیلئے ایک بند دروازہ کی پالیسی پر عمل کر کے ترقی نہیں کر سکتا تو کیا جب روسی کارخانوں کی پیدا وار اُس کے ملک کی ضرورت سے بڑھ جائے گی تو وہ اپنی صنعت کو دوسرے ممالک میں پھیلانے کی کوشش نہیں کرے گا ؟ دُور کیوں جائیں ان جنگ کے دنوں میں ہی روس مجبور ہوا ہے کہ امریکہ اور انگلستان سے نہایت کثرت کے ساتھ سامان منگوائے اور جس سُرعت اور تیزی کے ساتھ روس صنعت میں ترقی کر رہا ہے وہ اگر جاری رہی تو چند سالوں میں ہی روس کے صنعتی کارخانے اس قدرسامان پیدا کریں گے کہ وہ اس بات پر مجبور ہو جائے گا کہ غیر ملکوں کے پاس اُسے فروخت کرے۔ذرا سوچو کہ جب وہ دن آئے گا تو کیا اُس وقت روس کی وہی پالیسی نہیں ہوگی جو اب بڑے بڑے تاجروں کی ہوتی ہے؟ اور کیا وہ اس مال کو فروخت کرنے کیلئے وہی طریقے اختیار نہیں کرے گا جو امریکہ اور انگلستان کے بڑے بڑے تاجر اختیار کرتے ہیں؟ یعنی کیا وہ کسی نہ کسی طرح دوسرے ممالک کو مجبور نہ کرے گا کہ وہ اُس سے مال خریدیں تا کہ اُس کے اپنے ملک کے مزدور بیکار نہ رہیں اور اُس کی صنعتی اور اقتصادی ترقی کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔جیسے ہندوستان کی سیاسی آزادی کا سوال آئے تو انگلستان کے بڑے بڑے مد بر ہاؤس آف کامنز میں دُھواں دھار تقریریں کرتے ہیں لیکن جب اقتصادی ترقی کا سوال آ جائے تو فوراً اُس کے اقتصادی اکابر کہنے لگتے ہیں کہ برطانوی مفاد کی حفاظت کر لی جائے۔یہی حالت روس کی ہوگی لیکن جہاں انگلستان اور امریکہ کا مقابلہ دوسرے ملکوں سے صرف تاجروں کے زور پر ہوگا وہاں روس کا مقابلہ دوسرے ملکوں کے تاجروں کے ذریعہ سے نہ ہوگا بلکہ سارے روس کے اشترا کی نظام کا مقابلہ دوسرے ملکوں کے انفرادی تجار سے ہوگا۔اور جس دن روس میں یہ حالت پیدا ہوئی اُس وقت روس یہ نہیں کہے گا کہ چلو ہم اپنے کارخانے بند کر دیتے ہیں ، ہم اپنے مزدوروں کو بریکا ررہنے دیتے ہیں مگر ہم غیر ملکوں میں اپنے مال کو فروخت نہیں کرتے بلکہ اُس وقت وہ اپنے ہمسایہ ممالک کو ا