انوارالعلوم (جلد 18) — Page 84
انوار العلوم جلد ۱۸ ۸۴ اسلام کا اقتصادی نظام بڑی رمینداریوں کے قیام کو ناممکن بنا دیتا ہے۔اور اگر کوئی لا وارث ہو تو اسلام اُسے بھی ۱٫۳ حصہ کی وصیت کی اجازت دیتا ہے باقی زمین اُس کی گورنمنٹ کے پاس چلی جائے گی اور اس طرح پھر ملک کے عوام کے کام آئے گی۔اس نظام میں بھی یہ خوبی ہے کہ بڑے زمیندار جونسلوں تک دوسروں کے لئے روک بن کر کھڑے رہیں اس کے ماتحت نہیں بن سکتے مگر اس کے ساتھ ہی شخصی آزادی میں بھی کوئی فرق نہیں آتا اور ذہنی ترقی ، عائلی ہمدردی اور ایسے نیک کاموں میں حصہ لینے کا راستہ کھلا رہتا ہے جن کو انسان اپنی عاقبت کی درستی کے لئے ضروری سمجھے۔اس کے برخلاف کمیونزم نے جو تجاویز اپنے نظام کے لئے پسند کی ہیں وہ شخصی آزادی کو کچلنے والی ، عائلی ہمدردی کو مٹانے والی اور دین کی خدمت سے محروم کرنے والی ہیں اور پھر اُن کے جاری کرنے میں وہ گلی طور پر نا کام بھی رہے ہیں۔کمیونزم نے زمین کے متعلق یہ نظریہ قائم کیا تھا کہ زمین سب کی سب ملک کی ہے اور اس لئے حکومت کی ہے۔اس طرح سب زمینداروں کو اُنہوں نے مزدور بنا دیا حالانکہ تاجر اپنی جائداد کا جو سامان کی صورت میں ہو ایک حد تک مالک سمجھا جاتا ہے۔اپنے مقرر کردہ اصل کو عملی شکل دینے کے لئے کمیونزم نے یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ زمین حکومت کی ہے اس لئے حکومت کو اختیار ہے کہ وہ جہاں جو چیز بونا مناسب سمجھے زمیندار کو اُسی کے بونے پر مجبور کرے اور چونکہ زمیندار اپنے تجربہ کی بناء پر خاص خاص اجناس کے بونے میں ماہر ہوتے ہیں اس لئے یہ بھی اصل تسلیم کیا کہ زمینداروں کو اُن کی قابلیت کے مطابق جس علاقہ میں چاہے بھجوا دے۔جب اس نظام کو اُس کی تمام تفاصیل کے مطابق ملک میں رائج کیا گیا تو زمینداروں نے محسوس کیا کہ: (1) ان کو محض مزدور کی حیثیت دے دی گئی ہے اور عام تاجر اور صناع سے بھی اُن کا درجہ گرا دیا گیا ہے۔(۲) اُن کے عائلی نظام کو تہہ و بالا کر دیا گیا ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ زمین کو عمدہ بنانے میں جو بھی محنت کریں اُن کی نسل اُن کی محنت سے فائدہ اُٹھانے سے روک دی جائے گی۔