انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 85

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۸۵ اسلام کا اقتصادی نظام (۳) اُن کو ہر وقت اپنے وطنوں سے بے وطن ہونے کا خطرہ ہوگا۔(۴) وہ اپنی روزمرہ کی ضروریات زمین سے پیدا نہ کر سکیں گے بلکہ وہی اشیاء بوسکیں گے جن کی حکومت انہیں اجازت دے اور اس طرح اُن کا وہ پرانا نظام جس کے ماتحت وہ اپنے گاؤں اور قصبہ میں مکمل زندگی بسر کر رہے تھے تباہ ہو جائے گا۔ان حالات کو دیکھ کر انہوں نے بغاوت کر دی اور سالہا سال تک روس میں زمینداروں کی بغاوت زور پر رہی اور اجناس کی پیداوار بہت کم ہو گئی۔آخر موسیو سٹالن نے اس نظام کو منسوخ کر کے پرانے نظام کو پھر قائم کیا۔زمینداروں کو اُن کی زمینوں کا مالک قرار دیا گیا اور فصل بونے کے بارہ میں بہت حد تک اُن کو آزادی دے دی گئی۔اس طرح بغاوت تو فر و ہوگئی لیکن خود بالشویک لیڈر کے فیصلہ کے مطابق کمیونسٹ نظام کی غلطی پر مہر لگ گئی۔چنانچہ موسیوسٹالن کے دشمنوں نے اُن پر ایک یہ الزام بھی لگایا ہے کہ زمینوں کے متعلق لینن کے مقرر کردہ نظام کو انہوں نے تو ڑ کر کمیونزم سے بغاوت کی ہے۔اور موسیو سٹالن نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اصل نصب العین کمیونزم کا عوام کی حکومت ہے سو اس نصب العین کے حصول کے لئے اگر دوسرے اصول بدل دیئے جائیں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں مگر بہر حال اُن کے جواب سے بھی یہ بات ثابت ہو گئی کہ کمیونزم ایک مستقل فلسفہ کی حیثیت میں کم سے کم زمینوں کے متعلق اقتصادی نظام قائم کرنے میں بالکل ناکام رہی ہے اور خود اس کے لیڈروں نے اسے تسلیم کر لیا ہے کہ اس کے اصول بطور ایک فلسفہ کے جاری نہیں کئے جاسکتے بلکہ حسب ضرورت اُن میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے اور کمیونزم کے سوا دوسرے اصولوں کی مدد سے ملک اور قوم کا انتظام کرنا پڑتا ہے۔اسلام کے کامیاب اقتصادی نظام کے مقابل پر یہ زبر دست نا کامی اسلامی تعلیم کی برتری کا ایک بین ثبوت ہے اور اس بات کا ثبوت بھی کہ کمیونزم کوئی اصولی فلسفہ نہیں بلکہ محض ایک سیاسی تحریک ہے جس کی اصل غرض روس کو طاقتور بنانا ہے اور اُسے مذہب کے مقابل پر کھڑا کرنا سچائی اور دیانت کا منہ چڑانا ہے۔چنانچہ اسٹیفن کنگ حال ممبر پارلیمنٹ انگلستان حال ہی میں روس میں دورہ کر کے آئے ہیں اُن کا ایک مضمون SOVIET UNIORN“ ماہ جون میں چھپا ہے۔اس میں وہ لکھتے ہیں کہ روس کے اس وقت دو بڑے مقصد ہیں۔