انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 79

انوار العلوم جلد ۱۸ ۷۹ اسلام کا اقتصادی نظام خوشی کا موجب نہیں ہوتا نہ صرف روٹی اُس کا پیٹ بھرتی ہے مگر پھر بھی سوال یہ ہے کہ کیا ہر شخص ایک سی روٹی کھاتا ہے؟ کیا ہر شخص ایک سا مزہ کھانے سے حاصل کر سکتا ہے؟ کیا ہر شخص کی نظر ایک سی ہے؟ کیا ہر شخص کی صحت ایک سی ہے اور کیا ان امور میں مساوات پیدا کی جاسکتی ہے؟ یہ چیزیں بھی تو انسان کا آرام بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔ذہنی قابلیتیں کس قدر تسلی کا موجب ہوتی ہیں مگر دنیا میں کیا کوئی گورنمنٹ ان ذہنی قابلیتوں میں مساوات پیدا کر سکتی ہے؟ رشتہ داروں کی حیات انسان کے اطمینانِ قلب کا کس قدر موجب ہوتی ہے مگر کیا کوئی رشتہ داروں کی زندگی کا بیمہ لے سکتا ہے؟ کیا کوئی گورنمنٹ کہہ سکتی ہے کہ میں اس رنگ میں مساوات قائم کروں گی کہ آئندہ تیری بیوی بھی اتنے سال زندہ رہے گی اور فلاں شخص کی بیوی بھی اتنے سال زندہ رہے گی یا زید کے بھائی بھی اتنا عرصہ جیتے رہیں گے اور بکر کے بھائی بھی اتنا عرصہ زندہ رہیں گے؟ پھر اولا د کا وجود اور ان کی زندگی انسان کیلئے کس قد رتسلی کا موجب ہوتی ہے مگر کیا دنیا کی کوئی بھی گورنمنٹ ایسا کر سکتی ہے کہ سب کے ہاں ایک جتنی اولاد پیدا ہو، سب کی ایک جیسی قابلیت ہو اور سب کی ایک جتنی زندگی ہو؟ پھر رشتہ داروں کے دکھ سے انسان کو کیسا عذاب ہوتا ہے تم ہزار پلاؤ اور فرنیاں سامنے رکھ دووہ ماں جس کا اکلوتا بچہ مر گیا ہے اُسے اِن کھانوں میں کوئی مزا نہیں آئیگا لیکن وہ ماں جس کے سینہ سے اس کا بچہ چمٹا ہوا ہو ا سے جو مزا باسی روٹی کھانے میں آتا ہے وہ اس بڑے سے بڑے مالدار کو بھی نہیں آتا جس کے سامنے بارہ یا چودہ ڈشوں میں مختلف قسم کے کھانے پک کر آتے ہیں۔رشتہ داروں کے متعلق انسانی جذبات کی شدت کا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ابتداء میں جب بالشویک اور منشویک دو پارٹیاں بنیں تو مارٹو (1923-1873 MARTOV, YULY) جولینن کی طرح اپنی پارٹی میں مقتدر تھا اس نے کہا کہ ہمیں اپنے قوانین میں یہ بھی لکھ لینا چاہئے کہ آئندہ ہماری حکومت میں پھانسی کی سزا کسی کو نہیں دی جائے گی کیونکہ انسانی جان لینا درست نہیں اور لوگ بھی اس سے متفق تھے اور وہ چاہتے تھے کہ پھانسی کی سزا کو اڑا دیا جائے مگر لینن نے اُس سے اختلاف کیا اور کہا کہ گواصولاً یہ بات درست ہے مگر اس وقت اگر یہ بات قانون میں داخل کر دی گئی تو زار کو پھانسی پر لٹکا یا نہیں جا سکے گا پس خواہ صرف زار کی جان لینے کیلئے اس قانون کو جاری رکھنا پڑے تب بھی