انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 67

انوارالعلوم جلد ۱۸ اسلام کا اقتصادی نظام سکتا ہے ، وہ کپڑا پہن سکتا ہے، وہ رہائش کے لئے مکان لے سکتا ہے، وہ اپنا علاج کراسکتا ہے، وہ اپنی تعلیم سے بے فکر ہو سکتا ہے مگر اُخروی زندگی کے لئے اُس کے پاس ایک پیسہ بھی چھوڑا نہیں جاتا۔گویا اُس کی چالیس پچاس سالہ زندگی کی تو فکر کی گئی ہے مگر اُس عقیدہ کے رو سے جو غیر متناہی زندگی آنے والی تھی اُس کو یونہی چھوڑ دیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی شخص جو مذہب کی سچائی پر یقین رکھتا ہو اور اُس کے احکام پر عمل کرنا اپنی نجات کے لئے ضروری سمجھتا ہو ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔مثلاً اسلام اُن مذاہب میں سے ہے جو اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیتا ہے کہ جاؤ اور دنیا میں تبلیغ کرو، جاؤ اور لوگوں کو اپنے اندر شامل کرو کیونکہ دنیا کی نجات اسلام سے وابستہ ہے۔وہ شخص جو اسلام سے باہر رہے گا نجات سے محروم رہے گا اور اُخروی زندگی میں ایک مجرم کی حیثیت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا۔تم ایک مسلمان کو یہ عقیدہ رکھنے کی وجہ سے پاگل کہہ لو ، بے وقوف کہ لو، جاہل کہہ لو بہر حال جب تک وہ اسلام کی سچائی پر یقین رکھتا ہے، جب تک وہ بنی نوع انسان کی نجات صرف اسلام میں داخل ہونے پر ہی منحصر سمجھتا ہے اُس وقت تک وہ اپنا فرض سمجھتا ہے کہ میں اپنے ہر اس بھائی کو جو اسلام میں داخل نہیں اسلام کا پیغام پہنچاؤں ، اُسے تبلیغ کروں اور اُس پر اسلام کے محاسن اس عمدگی سے ظاہر کروں کہ وہ بھی اسلام میں داخل ہو جائے۔آخر اگر یہ بنی نوع انسان کا خیر خواہ ہے، اگر یہ اُن کی بھلائی اور عاقبت کی بہتری کا خواہشمند ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ یہ اُن کے سامنے اس پیغام کو پیش نہ کرے جو اُس کے عقیدہ کی رو سے انسان کی دائمی حیات کے لئے ضروری ہے۔اگر یہ اپنے دوست کے متعلق پسند نہیں کرتا کہ وہ گڑھے میں جا گرے، اگر یہ اپنے دوست کے متعلق پسند نہیں کرتا کہ دشمن اسے گولی کا شکار بنائے تو یہ کس طرح پسند کر سکتا ہے کہ ابد الآباد کی زندگی میں وہ دوزخ میں ڈالا جائے اور خدا تعالیٰ کی جنت اور اُس کے قرب اور اُس کی رضا مندی سے محروم ہو جائے۔چاہے تم کچھ کہہ لو ایک مذہب سے وابستہ انسان کی انتہائی آرزو یہی ہوگی کہ وہ اپنے بھائی کی اعتقادی اور عملی حالت کو درست کرے لیکن کمیونسٹ نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔اُس کی جد و جہد کو اول تو سیاسی طور پر روکا جائے گا چنانچہ ہمارا اپنا تجربہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔میں نے ایک احمدی مبلغ روس میں بھجوایا مگر بجائے اِس کے کہ