انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 68

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۸ اسلام کا اقتصادی نظام اُسے تبلیغ کی اجازت دی جاتی اُسے قید کیا گیا۔اُسے لوہے کے تختوں کے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ باندھ کر اور کئی کئی دن بھوکا اور پیاسا رکھ کر مارا پیٹا گیا اور اُسے مجبور کیا گیا کہ وہ سور کا گوشت کھائے اور یہ مظالم برابر ایک لمبے عرصہ تک اُس پر ہوتے چلے گئے۔(حضور نے اس موقع پر مولوی ظہور حسین صاحب مجاہد روس کو کھڑے ہونے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا ) یہ وہ حب ہیں جنہیں مبلّغ بنا کر بھیجا گیا تھا۔دو سال دو ماہ کم اِن کو تاشقند ، عشق آبا داور ماسکو کے قید خانوں میں رکھا گیا اور لوہے کے تختوں کے ساتھ باندھ باندھ کر مارا گیا اور انہیں بار بار مجبور کیا گیا کہ سور کا گوشت کھاؤ یہاں تک کہ ان متواتر مظالم کے نتیجہ میں ان کی دماغی حالت خراب ہوگئی۔اس پر وہ انہیں ایران کی سرحد پر لا کر چھوڑ گئے۔وہاں کے برطانوی سفیر نے گورنمنٹ آف انڈیا کو اطلاع دی اور گورنمنٹ آف انڈیا نے مجھے تار دیا کہ آپ کے ایک مبلغ کو روسی حکومت ایران کی سرحد پر لا کر چھوڑ گئی ہے۔چنانچہ میں نے گورنمنٹ کو لکھا کہ اس مبلغ کو آپ ہمارے پاس بھیجوا دیں اور آپ کا جس قدر خرچ ہو وہ ہم سے وصول کریں۔اس پر گورنمنٹ نے ان کو ہندوستان پہنچا دیا۔پس یہ وہ ہمارے مبلغ ہیں جنہیں دو ماہ کم دوسال شدیدترین عذابوں میں مبتلا رکھا گیا اور کسی ایک مرحلہ پر بھی ان کو مذہبی تبلیغ کی اجازت روس میں نہ دی گئی۔پس اول تو وہ سیاسی طور پر تبلیغ کی اجازت نہیں دیتے لیکن چونکہ یہ اقتصادی مضمون ہے اس لئے اسے نظر انداز بھی کر دو تو سوال یہ ہے کہ ایک اقلیت اکثریت کے مذہب کو بدلنے کے لئے کس قدر قربانی کے بعد لٹریچر وغیرہ مہیا کر سکتی ہے۔مثلاً ہماری جماعت ہی کو لے لو۔ہم اقلیت ہیں مگر دنیا میں اسلام کو پھیلانا چاہتے ہیں۔ہمارے آدمی اگر روس میں تبلیغ کرنے کیلئے جاتے ہیں تو ہر شخص یہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے کہ ۱۷ کروڑ رشین کو مسلمان بنانے کے لئے کتنے کثیر لٹریچر کی ضرورت ہے اور کتنا مال ہے جو اس جدو جہد پر خرچ آ سکتا ہے۔ہماری جماعت اس جدو جہد کو اُسی صورت میں جاری رکھ سکتی ہے جب اس کی کمائی اس سے پوری نہ چھین لی جائے اور کھانے پینے اور پہننے کے علاوہ بھی اس کے پاس روپیہ ہو تا وہ اس سے ان اخراجات کو پورا کر سکے جن کو وہ اپنی اُخروی بھلائی کیلئے ضروری سمجھتی ہے۔لیکن کمیونزم کا