انوارالعلوم (جلد 18) — Page 63
انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۳ اسلام کا اقتصادی نظام کا فیصلہ کر دیا ہے تم اُس میں بھو کے نہیں رہو گے تم اُس میں ننگے نہیں رہو گے۔تم اُس میں پیاسے نہیں رہو گے اور تم اُس میں رہنے کی وجہ سے دھوپ میں نہیں پھرو گے۔لوگ اس آیت سے غلطی سے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد اُخروی جنت ہے اور آیت کا یہ مطلب ہے کہ جب انسان جنت میں جائے گا تو وہاں اس کا یہ حال ہوگا۔حالانکہ قرآن کریم سے صاف ظاہر ہے کہ آدم اسی دنیا میں پیدا ہوئے تھے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً ۲۹ میں دنیا میں اپنا خلیفہ مقرر کر نے والا ہوں اور دنیا میں جو شخص پیدا ہوتا ہے وہ بھو کا بھی ہو سکتا ہے، وہ پیاسا بھی ہوسکتا ہے، وہ نگا بھی ہوسکتا ہے ، وہ دھوپ میں بھی پھر سکتا ہے۔یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ دنیا میں تو پیدا ہو اور بھوک اور پیاس اور لباس اور مکان کی ضرورت اُسے نہ ہو اور جب کہ یہ آیت اسی دنیا کے متعلق ہے تو لازماً ہمیں اس کے کوئی اور معنی کرنے پڑیں گے اور وہ معنی یہی ہیں کہ ہم نے اپنا پہلا قانون جو دنیا میں نازل کیا اُس میں ہم نے آدم سے یہ کہہ دیا تھا کہ ہم ایک ایسا قانون تمہیں دیتے ہیں کہ تجھ کو اور تیری اُمت کو جنت میں داخل کر دے گا اور وہ قانون یہ ہے کہ ہر ایک کے کھانے پینے لباس اور مکان کا انتظام کیا جائے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بھوکا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ ہر ایک کے لئے غذا مہیا کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص نگا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ ہر ایک کیلئے کپڑا مہیا کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص پیاسا نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ وہ تالابوں اور کنووں وغیرہ کا انتظام کرے۔آئندہ تم میں سے کوئی شخص بغیر مکان کے نہیں رہنا چاہئے بلکہ یہ سوسائٹی کا کام ہونا چاہئے کہ وہ ہر ایک کے لئے مکان مہیا کرے۔یہ وہ پہلی وحی ہے جو دنیا میں نازل کی گئی اور یہ وہ پہلا تمدن ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ دنیا میں قائم کیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے دنیا پر اس حقیقت کو ظاہر فرمایا کہ خدا سب کا خدا ہے وہ امیروں کا بھی خدا ہے ، وہ غریبوں کا بھی خدا ہے۔کمزوروں کا بھی خدا ہے اور طاقتوروں کا بھی خدا ہے۔وہ نہیں چاہتا کہ دنیا کا ایک طبقہ تو خوشحالی میں اپنی زندگی بسر کرے اور دوسرا روٹی اور کپڑے کیلئے تر ستار ہے۔یہی وہ نظام تھا جو اسلام نے اپنے زمانہ میں دوبارہ قائم کیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ