انوارالعلوم (جلد 18) — Page 597
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۹۷ انصاف پر قائم ہو جاؤ الله الله ایک اور قدم اُٹھایا کہ اس کے سامنے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینی شروع کیں آخر اس نوجوان نے اس بات سے تنگ آ کر اپنے والدین اور بھائیوں سے کہا تم رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتے ہو یہ بات ٹھیک نہیں ہے اور میں اس کو ہر گز برداشت نہیں کر سکتا اس کے علاوہ جو دُکھ تم جی چاہے دے لو مگر میرے سامنے آپ کو گالیاں نہ دیا کرو۔اس پر ماں نے اسے کہہ دیا تو میرا بیٹا نہیں اور میں تیری ماں نہیں اس لئے تو ہمارے گھر سے نکل جا۔چنانچہ وہ نو جوان حبشہ چلا گیا۔ایک عرصہ گزرنے کے بعد واپس گھر آیا اُس کا خیال تھا کہ اب میرے گھر والوں کے دلوں میں جدائی کی وجہ سے نرمی پیدا ہو چکی ہوگی اور وہ جب گھر پہنچا تو ماں کی مامتا کو جوش آیا اور بڑے پیار سے بیٹے کو گلے سے لگایا اور کہا بیٹا! اب تو امید ہے کہ تو اس صابی ( خاکش بدہن ، کفار مکہ رسول کریم ﷺ کو صابی کہتے تھے ) کے پاس نہ جائے گا۔یہ سن کر نو جوان ہٹ کر کھڑا ہو گیا اور کہا ماں! میں نے سمجھا تھا کہ میرے دور جانے کی وجہ سے تمہارا بغض دور ہو گیا ہو گا اگر تو یہ چاہتی ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کے پاس نہ جاؤں تو یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا بیشک تو میری ماں ہے مگر رسول اللہ مجھے تم سے زیادہ پیارے ہیں یہ کہہ کر وہ اُسی وقت گھر سے نکل گیا اور پھر اُس نے ساری عمر اپنے گھر کا رُخ نہیں کیا۔کے اسی طرح ایک جنگ میں جب مسلمانوں کو فتح ہوئی تو دشمن کے قیدی پکڑے ہوئے آپ کے پاس آئے ان میں آپ کا داماد ابو العاص بھی قید ہو کر آیا تھا جب دوسرے قیدیوں کو فدیہ وغیرہ کے بدلے رہا کیا گیا تو ابو العاص سے آپ نے یہ وعدہ لے کر چھوڑ دیا کہ مکہ واپس جا کر وہ آپ کی صاحبزادی حضرت زینب کو مدینہ بھجوا دے گا۔جب آپ کی وہ صاحبزادی مدینہ واپس آنے لگیں تو مکہ کے قریش نے انہیں بزور روکنا چاہا اور جب حضرت زینب نے انکار کیا تو ایک بد بخت نے نہایت وحشیانہ طریق پر ان کے پالان کی رسیاں کاٹ دیں جس کے نتیجہ میں وہ نیچے گر گئیں اور انہیں اسقاط ہو گیا اور پھر اسی صدمہ کی وجہ سے وہ چند دن بعد انتقال فرما گئیں۔ابوسفیان کی بیوی ہندہ جس نے مسلمانوں کے کلیجے نکال نکال کر چبائے تھے اور جو سخت بغیض عورت تھی وہ ایک مجلس میں تھی کہ وہی شخص جس نے حضرت زینب پر حملہ کیا تھا وہاں پہنچا اور بڑے فخر کے ساتھ اپنی اس بہادری کو بیان کرنے لگا کہ میں نے محمد (ﷺ) کی بیٹی کے