انوارالعلوم (جلد 18) — Page 596
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۹۶ انصاف پر قائم ہو جاؤ وہاں مجبوراً جانا پڑا صرف اس خیال سے کہ شاید وہاں ان کو امن مل سکے مگر کفار مکہ کے ظلم کا یہ حال تھا کہ وہ ہجرت بھی آسانی کے ساتھ نہ کر سکتے تھے۔ان کو جبرا ہجرت سے روک دیا جاتا تھا اس لئے جو مسلمان ہجرت کے لئے نکلتے تھے وہ منہ اندھیرے پو پھٹنے سے قبل نکل جاتے تھے تا کہ دشمن دیکھنے نہ پائے۔حضرت عمر ابھی تک ایمان نہ لائے تھے اُن کو کہیں سے بھنک پڑ گئی کہ آج کچھ مسلمان حبشہ کی طرف جانے کی تیاریاں کر رہے ہیں چنانچہ وہ گئے اور دیکھا کہ ایک صحابی اور اُس کی بیوی ایک اونٹ پر سامان باندھ رہے ہیں اور ہجرت کی تیاری کر رہے ہیں۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہاں کی تیاریاں ہیں؟ اُس صحابی کی بیوی نے جواب دیا عمر! تیاریاں کہاں کی ہوں گی یہ ہمارا اپنا وطن تھا اور ہمیں بہت عزیز تھا لیکن عمر ! تم نے اور تمہارے بھائیوں نے ہمارے لئے اس وطن میں امن نہیں چھوڑا۔وہ صحابیہ بیان کرتی ہیں کہ جب میں نے یہ الفاظ کہے تو عمرؓ نے منہ دوسری طرف پھیر لیا اور اُن کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور کہا جاؤ تمہارا خدا حافظ۔خاوند نے بیوی سے پوچھا عمر کیا کہہ رہا تھا ؟ بیوی نے جواب دیا عمر کے دل پر میری بات سن کر چوٹ لگی ہے۔خاوند نے حیران ہو کر کہا اس سنگدل کے دل پر بھلا چوٹ لگ سکتی ہے؟ بیوی نے کہا جب میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ عمر ! ہمارا یہ وطن ہمیں بہت عزیز تھا مگر تم نے اور تمہارے بھائیوں نے ہمارے لئے اس وطن میں امن نہیں چھوڑا تو واقعی اُس کی آنکھوں سے آنسورواں ہو گئے تھے یہ غرض کفار مکہ نے مسلمانوں پر اتنے شدید مظالم کئے تھے کہ وہ اپنے عزیز وطن کو چھوڑ کر ایسی جگہ جانے کے لئے مجبور ہو گئے جہاں کی ہر چیز اُن کے لئے اجنبی تھی۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ایک نوجوان جس کی عمر سترہ اٹھارہ سال کی تھی جب رسول کریم ہے پر ایمان لایا تو اُس کے ماں باپ نے اور بھائیوں نے اُس کے ساتھ اتنی دشمنی کی کہ اُس کا مقاطعہ کر دیا اور اُس کے برتن الگ کر دیئے تا کہ ان کے برتن نجس نہ ہو جا ئیں مگر نو جوان نے اس مقاطعہ کو خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا۔جب اُس کے گھر والوں نے دیکھا کہ اس نے مقاطعہ تو برداشت کر لیا ہے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس کے ساتھ بولنا بند کر دیا جائے چنانچہ انہوں نے سختی سے اس پر عمل کیا مگر نوجوان نے اپنی قوت ایمانی سے اس سختی کو بھی برداشت کر لیا۔جب اس کے گھر والوں نے دیکھا کہ اس بات کا بھی اس پر کچھ اثر نہیں ہوا تو انہوں نے