انوارالعلوم (جلد 18) — Page 595
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۹۵ انصاف پر قائم ہو جاؤ میں مسلمانوں نے ایک دوسرے پر جی بھر کر ظلم کیا یہاں تک کہ کلکتہ میں مسلمان عورتوں کے پستان کاٹے گئے ، بچوں کو نیزے مار مار کر مار دیا گیا اِن حالات کو دیکھ کر طبائع میں جوش تو آ جاتا ہے اور انسان چاہتا ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے مگر رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جہاں تک ظلم کا تعلق ہے اس کا مقابلہ کرنا تو جائز ہے لیکن کمینگی کا مقابلہ جائز نہیں۔رسول کریم ﷺ نے کبھی کسی دشمن کا مثلہ نہیں کیا بلکہ آپ ہمیشہ صحابہ کو اس سے منع فرماتے رہے یہاں تک کہ عربوں کے دستور کے مطابق بعض اوقات عورتیں بھی جنگوں میں آجاتی تھیں۔ایک دفعہ کوئی عورت مسلمانوں کے ہاتھ سے اتفاقاً ماری گئی ، آپ نے جب عورت کی لاش دیکھی تو آپ کو سخت تکلیف ہوئی۔صحابہ کہتے ہیں کہ اُس وقت غصہ کی وجہ سے آپ کا چہرہ اتنا متغیر تھا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا آپ نے فرمایا یہ علم کس نے کیا ہے؟ کے اس بات کا صحابہ پر اتنا اثر تھا کہ ایک جنگ میں ایک صحابی لڑتے لڑتے ایسے مقام پر پہنچ گئے کہ ایک ہی حملہ سے دشمن کو شکست دے سکتے تھے لیکن جو نہی آپ نے حملہ کرنا چاہا سامنے سے ایک عورت آ گئی انہوں نے جھٹ اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس بات کی پرواہ نہ کی کہ اس میں میرا نقصان ہو جائے گا۔کسی نے ان سے پوچھا یہ آپ نے کیا کیا کہ ایسے اچھے موقع پر پہنچ کر آپ حملہ کرنے سے باز رہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہوا ہے کہ عورت پر ہاتھ اُٹھا نا سخت ظلم ہے۔ھے۔اسی طرح رسول کریم ﷺ جب فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو مکہ میں تمام لوگ موجود تھے جنہوں نے متواتر تیرہ سال تک آپ کو اتنہائی دُکھوں میں مبتلا رکھا تھا بلکہ آپ کی مکی زندگی کے بعد جب مدنی زندگی شروع ہوئی تو بھی ان لوگوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا تھا، غرض مکہ کے اندر وہ لوگ تھے جنہوں نے آپ کو ہر قسم کی تکالیف پہنچائی تھیں ، آپ کے صحابہ پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے گئے ، آپ کے خویش و اقارب پر جو آپ پر ایمان لائے تھے اتنی سختیاں کی تھیں جن کی حد ہی نہیں ان مظالم ہی کی وجہ سے بعض مسلمانوں کو بے چارگی اور بے کسی کی حالت میں حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی۔حبشہ ان کے لئے بالکل اجنبی جگہ تھی وہاں کی آب و ہوا اور تھی ، زبان اور تھی ، وہاں کے لوگوں کا مذہب اور تھا، قومیت اور تھی مگر مسلمانوں کو