انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 593

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۹۳ انصاف پر قائم ہو جاؤ لینے کے نتیجہ میں تقویٰ کے قریب پہنچ جاؤ گے مگر تم اس سے تقویٰ کے اصل مقام کو حاصل نہیں کر سکتے اور چونکہ ہم تمہیں صرف یہی نہیں کہتے کہ تم تقویٰ کے قریب ہو جاؤ بلکہ ہم تمہیں تقویٰ کے اصل مقام پر کھڑا کرنا چاہتے ہیں اس لئے تم اقرب للتَّقوی سے آگے بڑھ کر اتَّقُوا اللهَ پر عمل کرو جب تم اس پر پوری طرح عمل کر لو گے تو تم تقویٰ کے اصل مقام پر پہنچ جاؤ گے۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے اس امر کو نہایت صراحت اور وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ جب تم نے دشمن کی شرارتوں ، اس کی تدبیروں ، اس کے مکروں اور اس کی چالا کیوں کو بھلا دیا اور تم نے اس کے ساتھ عدل کیا تو یہ اَقْرَبُ لِلتَّقوى تو ہو گیا لیکن تقوی نہ ہوا اس کے دکھ کو بھلا دینا ، اُس کے مظالم کو بھلا دینا اور اس کے ساتھ عدل کرنا تمہیں تقویٰ کے اصل مقام پر نہیں پہنچا سکے گا حالانکہ ہم چاہتے ہیں کہ تم تقویٰ کے اصل مقام تک پہنچ جاؤ اس لئے وَاتَّقُوا اللهَ تم تقویٰ اختیار کرو۔اس جگہ یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جب دشمن کی شرارتوں اور اس کے مظالم کے باوجو داس سے عدل وانصاف کا سلوک کرنا بھی تقویٰ بلکہ صرف تقویٰ کے قریب کرنے والی چیز ہے تو پھر تقویٰ کیا ہوا ؟ سو اس کا جواب یہ ہے کہ جب عدل صرف تقویٰ کے قریب کرنے والی چیز ہوا تو ظاہر ہے کہ تقویٰ وہ ہوگا جو اس سے بھی بڑھ کر ہو۔اور عدل سے بڑھ کر جو چیز ہے وہ احسان اور حسن سلوک ہے۔گو یا اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ دشمن کے مظالم اور اس کی جفا کاریوں کے مقابلہ میں تم نہ صرف عدل سے کام لو بلکہ اس سے احسان اور حسن سلوک کا بھی معاملہ کرو۔اگر تم صرف عدل سے کام لو گے تو گو یہ چیز اَقْرَبُ إِلَى التَّقُوی ہو گی مگر تقویٰ نہیں ہوگی۔تقویٰ یہ ہے کہ تم دشمن سے احسان کا سلوک کرو اور اس کے مظالم کو بالکل بھول جاؤ۔اس جگہ پھر انسانی طبیعت میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر میں نے دشمن کی ہر شرارت اور اس کے ہر ظلم کے بدلہ میں در گذر سے کام لیا تو مجھے نقصان پہنچ جائے گا سو اس خطرہ کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ہے اگر تم دشمن کی دشمنی اور ظلم کے باوجود اس کے ساتھ عدل اور انصاف سے کام لو گے اور پھر اس سے احسان کا سلوک کرتے ہوئے تقویٰ کی راہوں پر گامزن ہو جاؤ گے تو تمہیں اس بات کا خوف نہیں ہونا چاہئے کہ تمہیں