انوارالعلوم (جلد 18) — Page 536
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۳۶ جماعت کو چار چیزوں کی طرف زور دینا چاہئے وہ اس میں روک بن جاتے ہیں۔یہ ایک خطر ناک بات ہے جب تک عورتیں بھی دین کی خدمت کے لئے مردوں کے پہلو بہ پہلو کام نہیں کرتیں اس وقت تک ہم صحیح طور پر ترقی نہیں کر سکتے۔اسلام کی جو عمارت ہم باہر تیار کرتے ہیں اگر اس عمارت کی تیاری میں عورت ہمارے ساتھ شریک نہیں تو وہ گھر میں اس عمارت کو تباہ کر دیتی ہے۔تم بچے کو مجلس میں اپنے ساتھ لاؤ اُسے وعظ ونصیحت کی باتیں سناؤ، دین کی باتیں اس کے کان میں ڈالولیکن گھر جانے پر اگر تمہاری عورت میں وہ روح نہیں جو اسلام عورتوں میں پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ بچے سے کہے گی کہ بچے ! تمہارے باپ کی عقل ماری ہوئی ہے، وہ تمہیں یونہی مسجدوں میں لئے پھرتا ہے، تمہاری صحت اس سے تباہ ہو جائے گی، ہم ایسا نہ کیا کرو۔باپ اپنے بچے کو اقتصادی زندگی لے بسر کرنے کی ترغیب دے تو ماں کہنے لگ جائے گی کہ بیٹا تمہارا باپ محض بخل کی وجہ سے تمہیں نصیحت کر رہا ہے اور نام اس کا دین رکھ رہا ہے ورنہ اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا دل تمہاری ضروریات کے لئے روپیہ خرچ کرنے کو نہیں چاہتا۔تم بے شک اپنے دل کے حو صلے نکال لو میں تمہاری مدد کر نے کیلئے تیار ہوں۔دیکھو اگر کسی گھر میں ایسا ہو تو ایک ہی وقت میں دو تلوار میں چل رہی ہوں گی ایک سامنے سے اور ایک پیچھے سے اور یہ لازمی بات ہے کہ جہاں دو تلوار میں چل رہی ہوں وہاں امن نہیں ہوسکتا۔- پس اول ہماری جماعت کو نماز باجماعت کی پابندی کی عادت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے۔دوسرے جماعت کو خصوصیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی کیلئے محنت کی عادت اختیار کرنی چاہئے اور جس کام کے لئے کسی کو مقرر کیا جائے اس کے متعلق وہ اس اصول کو اپنے مدنظر رکھے کہ میں نے اب پیچھے نہیں ہٹنا چاہے میری جان چلی جائے۔جب تک اس قسم کی روح اپنے اندر پیدا نہیں کی جائے گی جماعت پوری طرح ترقی نہیں کر سکتی۔تیسرے ہر جگہ لجنہ اماءاللہ قائم کی جائے اور عورتوں کی تعلیم اور اُن کی اصلاح کا خیال رکھا جائے۔چوتھے جماعت کے اندر سچائی کو قائم کیا جائے۔جب تک کسی قوم میں سچائی قائم رہتی ہے وہ ہارا نہیں کرتی۔میں دیکھتا ہوں کہ ہماری جماعت میں ابھی اس پہلو کے لحاظ سے بھی کمزوری پائی جاتی ہے۔مقدمات پیش ہوتے ہیں تو ان میں گواہی دیتے وقت بعض لوگ ایسی ایسچا پیچی سے کام لیتے ہیں کہ قاضی