انوارالعلوم (جلد 18) — Page 484
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۸۴ - عمل کے بغیر کا میابی حاصل نہیں ہوسکتی رکھنا یا خیال کر لینا کہ اسلام یورپین اقوام کے مقابلہ میں جیت جائے گا ، ایک حماقت اور جنون کی بات ہوگی۔یورپین اقوام کے مقابلہ میں تم کس طرح جیت سکتے ہو جب کہ یورپین اقوام تم سے دس گنے زیادہ کام کرتی ہیں اور جرمن تم سے ہیں گنے زیادہ کام کرتے ہیں یہی حال دوسری اقوام کا ہے کہ وہ بہت زیادہ محنت اور بہت زیادہ جفا کشی سے کام لینے کی عادی ہیں اور جرمنوں اور امریکیوں اور انگریزوں کے مقابلہ میں تمہارے کاموں اور قربانیوں کی کوئی نسبت ہی نہیں بلکہ عیسائی آج دنیوی اغراض کے لئے جو قربانیاں کر رہے ہیں وہ تم خدا کے لئے نہیں کر رہے پس تمہارا اور ان کا مقابلہ ہی کیا ؟ بسا اوقات لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ ہم جو کچھ کرتے ہیں اس کے نیک نتائج کیوں پیدا نہیں ہوتے اور کیوں اسلام کی فتح کا دن قریب سے قریب تر نہیں آجا تا ؟ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ محض ذہنی باتیں ہوتی ہیں اور لوگوں کے دل ذہنی باتوں سے تسلی نہیں پاسکتے۔یورپ میں جو لوگ اسلام قبول کرتے ہیں وہ صرف اس تعلیم کی وجہ سے قبول کرتے ہیں جو قرآن کریم اور احادیث اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتابوں میں درج ہے اور جس کے محاسن کو پیش کر کے ہم لوگوں کے قلوب کو فتح کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ ہزاروں ہزار آدمی جو اسلام کے محاسن کو دیکھ کر فریفتہ ہو جاتے ہیں جب ہماری جماعت کے اعمال پر نگاہ دوڑاتے ہیں تو ان کا جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے، ان کی خوشی سرد ہو جاتی ہے اور وہ وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔پہلے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ شاید آسمان سے ہمارے لئے ایک ایسا علاج نازل ہوا ہے جس سے ہمارے مزمن امراض دور ہو جائیں گے اور ہم بھی خوشی اور مسرت کی زندگی بسر کر سکیں گے۔مگر جب وہ ہماری طرف نگاہ دوڑاتے ہیں تو ان کے تمام ولولے دب جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں افسوس ابھی ہماری بیماری کے جانے کا وقت نہیں آیا وہ پھر کفرستان میں چلے جاتے ہیں۔پھر خدا کا خانہ خالی رہ جاتا ہے پھر شیطان کی حکومت دلوں پر قائم ہو جاتی ہے اور پھر رحمانی فوجوں کو شیطان سے برسر پیکار ہونا پڑتا ہے۔پس جب تک تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے ، جب تک تم اپنے اعمال سے یہ بتا نہیں دیتے کہ اب تم وہ نہیں رہے جو پہلے ہوا کرتے تھے بلکہ تم تمام محنت کرنے والوں سے زیادہ محنت کرنے والے اور تمام قربانی کرنے