انوارالعلوم (جلد 18) — Page 477
عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی انوارالعلوم جلد ۱۸ سے نوازا۔یہی وجہ ہے کہ انہیں جو فائدہ سوکھی روٹی کے ٹکڑوں نے دیا وہ تمہیں پلاؤ اور قورمہ بھی نہیں دیتے۔آج جسے پلاؤ ملتا ہے وہ پلاؤ تو کھاتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اس حسرت سے اُس کا دل کباب ہو رہا ہوتا ہے کہ پلاؤ کے ساتھ زردہ نہیں، جسے پلاؤ اور زردہ میسر آئے وہ پلاؤ اور زردہ کھاتے ہوئے خون کے آنسو بہا رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے پلا ؤ اور زردے کو میں کیا کروں فرنی تو اس کے ساتھ نہیں۔جسے دال ملتی ہے وہ گوشت کے لئے روتا ہے، جسے گوشت ملتا ہے وہ چاولوں کے لئے تڑپتا ہے، جسے کھانے کے لئے چار روٹیاں ملتی ہیں وہ کہتا ہے چار روٹیوں سے کیا بنتا ہے ملتیں تو چھ مالتیں ، جسے دو ملتی ہیں وہ ایک ایک لقمہ زہر مار کر رہا ہوتا ہے اور کہتا ہے دو روٹیاں بھی کوئی روٹیاں ہیں ملتی تو چار ملتیں اور جس کو ایک روٹی ملتی ہے وہ روٹی بھی کھاتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اُس کا خون کھول رہا ہوتا ہے کہ میں کتنی بڑی مصیبت میں گرفتار ہو گیا مجھے کھانے کے لئے صرف ایک روٹی مل رہی ہے۔وہاں روکھی سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی ملتا تھا تو صحابہ کہتے کہ ہم تو اس ٹکڑے کے بھی مستحق نہ تھے یہ تو خدا کا فضل ہے کہ اس نے یہ ٹکڑا ہمیں عنایت کیا۔نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ وہ روکھی روٹی کا ٹکڑا اُن کے انگ لگ جاتا تھا ، ان کے اندر علو ہمتی پیدا کرتا تھا اور ان کے جذبہ شکر گزاری کو اور بھی بڑھا دیتا تھا۔فتح مکہ کے دن جس دن عرب کا مقام امارت ختم ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ہزار قد وسیوں کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ، مکہ کے بڑے بڑے صنادید جن کی ساری زندگی اسلام کی دشمنی میں گزری تھی گردن جھکائے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے ان کے سامنے یہ اعلان کیا کہ جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں کہتا تم سب میری طرف سے آزاد ہو کے یہ اعلان کرنے کے بعد آپ اپنی پھوپھی کے پاس گئے اور فرمایا پھوپھی کچھ کھانے کو ہے؟ پھوپھی نے کہا میرے عزیز بچے ! اگر میرے پاس کچھ کھانے کو ہوتا تو میں تمہیں خود ہی بلا کر کھلا دیتی میرے گھر میں تو سوائے ایک سوکھی روٹی کے جو کئی دن سے پڑی ہوئی ہے اور کچھ نہیں۔آپ نے کہا دیکھا ئیں تو سہی وہ کونسی روٹی ہے؟ جب وہ سوکھی روٹی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لائیں تو آپ نے فرمایا پھوپھی یہ تو بہت ہی اچھی روٹی ہے اس کے سوا اور کیا چاہئے کہ آپ افسردہ ہو رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔پھر