انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 476

انوارالعلوم جلد ۱۸ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی قوت ہاضمہ کے ساتھ تعلق ہے پھر بہت کچھ نشاط اور عزم سے بھی یہ امور تعلق رکھتے ہیں اور تھوڑی تھوڑی غذا سے بھی انسان میں نہایت اعلیٰ درجہ کی قوت عملیہ پیدا ہوتی ہے اگر غذا کے ساتھ ورزش رکھی جائے اور پھر غذا کے استعمال کے وقت بشاشت اور نشاط کو قائم رکھا جائے تو غذا ایسے طور پر جزو بدن ہوتی ہے کہ انسان کے تمام قویٰ میں ایک طاقت محسوس ہونے لگتی ہے۔جسے ہمارے ملک میں آنگ لگنا کہتے ہیں اور یہ چیز اس کی ترقی اور راحت کا موجب ہوتی ہے۔پس غذا کے صحیح نہ ملنے کے یہ معنی نہیں کہ لوگوں کو غذا کی کمی کی شکایت ہے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انہیں غذا کے استعمال کا صحیح طریق معلوم نہیں اگر صحیح طور پر غذا کھائی جائے تو تھوڑی سے تھوڑی غذا بھی انسان کے اندر بہت بڑی قوت عملیہ پیدا کر دیتی اور اُس کے قلب میں نئی اُمنگ اور نیا جوش بھر دیتی ہے۔صحابہ کوکونسی غذا ملتی تھی؟ بہت سے صحابہ کہتے ہیں کہ ہمیں کبھی پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملی۔اس کے مقابلہ میں دیکھ لو یہاں کتنے لوگ ہیں جن کو پیٹ بھر کر کھانا میسر نہیں آتا یہاں شاید چند گھر ایسے ہوں تو ہوں جو کبھی ناواقفی کی وجہ سے بھوکے رہ جائیں لیکن صحابہ میں تو اکثر ایسے تھے جن کو پیٹ بھر کر روٹی نہیں ملتی تھی مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے کام اتنی علو ہمتی سے سرانجام دیئے ہیں کہ دین تو دین رہا دنیا کے کاموں میں بھی وہ ایک نمونہ قائم کر گئے ہیں۔اس کی یہی وجہ تھی کہ ان کے اندر ایک غیر معمولی جذبہ پایا جاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم دنیا میں ایک عظیم الشان تغیر پیدا کرنے کے لئے کھڑے ہوئے ہیں اور یہ تغیر ہمارے ہاتھوں سے پیدا ہو کر رہے گا۔یہ چیز تھی جو ان کی اُمنگوں کو قائم رکھتی تھی۔یہ چیز تھی جو ان کی ہمتوں کو بلند رکھتی تھی ، یہ چیز تھی جو عزم اور ان کے ارادہ کو کبھی متزلزل نہیں ہونے دیتی تھی اور یہ چیز تھی جو انہیں ترقی کے میدان میں ہمیشہ آگے ہی آگے اپنا قدم بڑھانے پر مجبور کرتی تھی۔تمہارے جسم پر کبھی پھٹا ہوا کپڑا ہو تو تم رونے لگ جاتے ہو اور کہتے ہو ہماری قسمت کیسی پھوٹ گئی کہ ہمیں پہننے کے لئے پھٹا ہوا کپڑا ملا۔مگر صحابہ کو پھٹا ہوا کپڑا ملتا تو ان کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا ، ان کی زبان اس کے احسان کے ذکر سے تر ہو جاتی اور وہ کہتے کتنا اچھا کپڑا ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں دیا۔انہیں اگر ایک سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا بھی چار دن کے بعد ملتا تو خوشی سے اُن کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی اور وہ کہتے الْحَمدُ لِللہ خدا نے ہمیں اپنے انعام