انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 442

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۲ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے کی کار کے ساتھ ہر وقت سلسلہ کے کام کرتی رہیں اور یہ قربانی ان لوگوں نے متواتر تین ہفتہ تک رات اور دن پیش کی۔یقیناً یہی ایمان کا تقاضا تھا اور امتحان کے آنے پر اس قسم کا اخلاص دکھائے بغیر کوئی جماعت اپنے ایمان کے دعوی میں بچی نہیں ہو سکتی۔یہ کوئی اخلاص نہیں کہ امام آیا ہوا ہے اور لوگ اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں یہ تو دین سے استغناء کا مظاہرہ ہے اور جو دین سے استغناء کرتا ہے وہ ایماندار کس طرح کہلا سکتا ہے۔اکثر احباب جماعت مغرب وعشاء میں متواتر تین ہفتہ شامل ہوتے رہے۔میرے نزدیک جماعت کا ۳٫۴ حصہ روزانہ نماز میں آتا تھا اور کافی تعداد کوئی ۱٫۴ کے قریب با وجود دفتروں کا وقت ہونے کے ظہر وعصر میں شامل ہوتی تھی۔ان میں سے بعض کو پانچ چھ بلکہ سات میل سے آنا پڑتا تھا کثرت سے جماعت کے دوست دوسروں کو ملاقات کے لئے لاتے رہے اور مفید سوال و جواب سے اپنے اور دوسروں کے ایمان تازہ کرتے رہے۔بہت سوں نے اس غرض سے دعوتیں کیں تا معزز غیر احمد یوں اور ہندوؤں کو ملنے کا موقع ملے۔کئی کی دعوتیں ہم قبول کر سکے اور کئی کی قلت وقت کی وجہ سے نہ کر سکے۔عورتوں کی خدمات اور اخلاص بھی قابل تعریف تھا انہوں نے قابل رشک نمونہ دکھایا بہر حال میں ان سب کا شکر یہ ادا کرتا ہوں اور ان کے اخلاص اور تقویٰ کی زیادتی کے لئے اور دینی و دنیوی کا میابی کے لئے دعا کرتا ہوں۔اللَّهُمَّ امِينَ اب میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ باتیں کرنے اور عمل کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اس زمانے میں باتیں بہت بڑھ گئی ہیں اور قوت عملیہ بالکل کم ہو گئی ہے۔لوگ جتنی باتیں آجکل کرتے ہیں اگر اس کے سینکڑویں حصے پر بھی عمل کر دکھا ئیں تو وہ ولی اللہ بن جائیں پس میں آپ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ آپ کو باتوں سے زیادہ عمل پر زور دینا چاہیے کیونکہ اب باتوں کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے اور دنیا با توں سے فتح نہیں ہوا کرتی جب تک اس کے ساتھ عملی پہلو نہ اختیار کیا جائے۔دوسرے یہ بات بھی آج کل کے لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے کہ جتنا زیادہ کوئی دعوی کرنے میں ہوشیار ہو گا لوگ اسے اتنا ہی بڑا لیڈر مانیں گے خواہ وہ مخالف کا مقابلہ کرے یا نہ کرے مگر لوگ اُسے بڑا لیڈر ہی کہیں گے۔اگر ایک شخص اُٹھ کر کہے کہ دشمنوں کے مقابلہ کے