انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 429 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 429

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۲۹ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے نہیں کرتے۔اگر ان کو اپنے اپنے زمانہ میں دوسروں سے اختلاف کرنے کا حق تھا تو کیا وجہ ہے کہ دوسرے لوگوں کو یہ حق نہیں پہنچتا۔پس گزشتہ انبیاء کے اتباع کو کسی طرح بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی سے محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے دشمنی اور بغض رکھیں۔اسلام اس بات سے سختی سے منع کرتا ہے کہ کسی شخص سے محض مذہبی اختلاف کی وجہ سے بغض و عناد رکھا جائے۔ہمارے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اُسوہ حسنہ موجود ہے آپ کے گھر ایک یہودی آیا آپ نے اُس کو اپنا مہمان ٹھہرایا۔وہ یہودی آپ سے بہت کینہ اور بغض رکھتا تھا صبح جاتے وقت وہ بستر پر پاخانہ پھر گیا۔اُس وقت بستر بہت سادہ ہوتے تھے عام طور پر ایک ہی کپڑا ہوتا تھا تو شکوں وغیرہ کا استعمال ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس کپڑے کو دھونا شروع کیا خادمہ جو پانی ڈال رہی تھی اس کے منہ سے غصہ کی وجہ سے یہ فقرہ نکلا کہ خدا اس کا بیڑا غرق کرے کتنا بُرا آدمی تھا کہ رات اس بستر میں سویا رہا اور صبح جاتی دفعہ اس میں پاخانہ کر گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بُرا بھلا کہنے سے فوراً روک دیا اور فرمایا اسے بُرا نہ کہو خدا جانے اُسے کیا تکلیف تھی ؟ پس اختلاف کو وجہ فساد بنا نا عقل مندی نہیں اور اس اختلاف پر لڑنے سے کبھی بھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔اگر یہ تین چیزیں پیدا ہو جائیں تو خدا تعالیٰ کی بادشاہت قائم ہو سکتی ہے۔دوسرا سوال یہ ہے کہ دنیوی طور پر حکومتوں کے اختلاف کس طرح مٹ سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب میں پہلے دے چکا ہوں کہ موجود زمانہ میں یہ چیز بظاہر مشکل نظر آتی ہے لیکن ناممکن نہیں۔یہ دوسری قسم کا اختلاف دنیا میں پارٹی سسٹم کی وجہ سے تقویت پکڑ رہا ہے اس سٹم کی وجہ سے ایک حکومت دوسری حکومت سے اختلاف رکھتی ہے بلکہ حکومتوں کے اندر بھی یہ فساد پایا جاتا ہے مگر ہم ان کا فیصلہ نہیں کر سکتے ان کا فیصلہ خودحکومتیں ہی کر سکتیں ہیں۔اب میں یہ بیان کروں گا کہ اسلامی تعلیم ایسے حالات میں ہماری کیا راہ نمائی کرتی ہے یہ اور بات ہے کہ دنیا اس پر عمل کرے یا نہ کرے کیونکہ یہ میرے اختیار کی بات نہیں میں بادشاہ نہیں ہوں کہ کسی کو یہ بات منوا سکوں ، نہ میں ہندوستان والوں کو اپنی بات منوا سکتا ہوں اور نہ ہی انڈونیشیا والوں اور