انوارالعلوم (جلد 18) — Page 430
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۳۰ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے فلسطین کے لوگوں کو اپنی بات منوا سکتا ہوں ، میرے پاس سوائے دلیل کے اور کوئی طاقت نہیں۔پس اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ تمام دنیا کا اتحاد ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ تو میں اسے یہی کہوں گا کہ بظا ہر ناممکن ہے ہاں اسلام نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ اگر ساری دنیا میں ایک حکومت قائم نہ ہو سکے تو تمام حکومتیں مل کر ایک ایسا نظام قائم کریں جو کہ اس کے قائمقام ہو سکے۔یورپ میں جب لیگ آف نیشنز کا تقرر ہوا تو اسے یورپ نے اپنی بہت بڑی ایجاد سمجھا لیکن وہ لیگ آف نیشنز کامیاب نہ ہو سکی کیونکہ اس میں بعض خامیاں تھیں لیکن قرآن کریم نے جو لیگ آف نیشنز بیان کی ہے وہ ایسی مکمل اور ایسی مضبوط ہے کہ اس پر چلنے سے کوئی مشکل باقی نہیں رہتی۔میں نے ۱۹۲۴ء میں جو مضمون ویمبلے کا نفریس لنڈن کیلئے تیار کیا تھا اُس میں میں نے اس مضمون کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا تھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِن طَائِفَتَنِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تبني حتى تفي إلى آخرِ اللهِ ؟ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا ما یعنی اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کی آپس میں صلح کرا دو یعنی دوسری قوموں کو چاہئے کہ بیچ میں پڑ کر ان کو جنگ سے روکیں اور جو جنگ کا اصل باعث ہو اُس کو مٹائیں اور ہر ایک کو اس کا حق دلائیں لیکن اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے ایک قوم دوسری قوم پر حملہ کر دے اور مشتر کہ انجمن کا فیصلہ نہ مانے تو سب قومیں مل کر اُس سے لڑیں یہاں تک کہ وہ خدا کے حکم کی طرف لوٹ آئے یعنی ظلم سے دستکش ہو جائے پھر اگر وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو ان دونوں قوموں میں پھر صلح کرا دو، مگر انصاف اور عدل سے کام لو اور صلح کرتے وقت اپنے فوائد سامنے نہ رکھا کرو اللہ تعالیٰ یقیناً انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمام حکومتوں کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ لڑنے والی حکومتوں کی آپس میں صلح کروائیں اور جو حکومت بغاوت کرے سب حکومتیں مل کر اُس کا مقابلہ کریں یہاں تک کہ وہ ہتھیار رکھ دے اور صلح کے لئے تیار ہو جائے اور جب صلح کرائی جائے تو عدل و انصاف سے کام لیا جائے اور بندر بانٹ کی طرح حکومتیں خود ہی حصہ دار نہ بن بیٹھیں۔کہتے ہیں دو بلیوں نے کسی گھر سے پنیر چرایا اور فیصلہ کیا کہ چلو بندر کے پاس چل کر اس سے تقسیم