انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 422 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 422

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۲۲ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے فرماتا ہے کہ تیرے متبعین اور تیرے ماننے والے تیرے نہ ماننے والوں پر قیامت تک غالب رہیں گے ھے اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ متبعین بھی رہیں گے اور منکرین بھی رہیں گے اور دونوں ہی قیامت تک رہیں گے۔اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ بات اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقدر نہیں کہ تمام دنیا کا ایک ہی مذہب ہو جائے۔پس معلوم ہوا کہ خدائی بادشاہت اس رنگ میں نہیں آئے گی کہ تمام دنیا ایک ہی دینی رو کے تابع ہو جائے اور کوئی کنبہ اور کوئی خاندان اس کا مخالف باقی نہ رہے۔دوسرے سوال کا جواب بھی بظاہر یہی ہے کہ ابھی اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا لیکن یہ چیز ناممکن بھی نہیں اور کوئی مذہبی پیشگوئی ایسی نہیں جو اسے ناممکن قرار دیتی ہو اور کوئی دنیوی وجہ بھی ایسی نہیں کہ ہم یہ خیال کریں کہ تمام دنیا میں ایک حکومت نہیں ہو سکتی لیکن موجودہ زمانہ میں اس کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اس کے بغیر امن قائم نہیں ہوسکتا تو ان مشکلات کا علاج کیا ہے؟ میرے نزدیک اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک ایک حکومت قائم نہ ہو سکے اس وقت تک کوشش کی جائے کہ مختلف حکومتیں آپس میں حقیقی طور پر اتحاد کر لیں۔اگر یہ صورت ہو جائے تو یہ بھی ایک حکومت کے قائم مقام ہو سکتی ہے اگر یہ بھی نہ ہو سکے اور کلی طور پر اتحاد کرنا مشکل ہو تو پھر باوجود اختلاف کے حکومتیں اختلاف پر ہی متحد ہو جائیں یعنی اس اختلاف کی وجہ سے لڑائی جھگڑا نہ کریں۔بعض دفعہ دنیا دار لوگوں کے مونہوں سے بھی بعض حکمت کی باتیں نکل جاتی ہیں گزشتہ جنگ کے بعد مسٹر لائڈ جارج فرانس کے ساتھ یہ مشورہ کرنے کے لئے گئے کہ جرمنوں کے ساتھ کن شرائط پر صلح کی جائے۔فرانس والے یہ چاہتے تھے کہ جرمنی کا بہت سا حصہ ان کے سپر د کر دیا جائے لیکن مسٹر لائڈ جارج یہ نہیں چاہتے تھے کہ جرمنی کا کوئی حصہ فرانس کے سپر د کیا جائے۔کئی دن تک اس مطالبہ کے متعلق گفتگو ہوتی رہی آخر انہوں نے دیکھا کہ اختلافات کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے اس لئے وہ گفتگو ختم کر کے واپس آگئے۔لوگوں نے بحث کا نتیجہ پوچھا تو انہوں نے کہا نتیجہ بہت اچھا رہا ہے ہم نے ایک دوسرے کے اختلاف پر اتفاق کر لیا ہے۔پس ہر اختلاف میں لڑائی نہیں ہوتی بلکہ لڑائی وہاں ہوتی ہے جہاں انسان اپنی بات کو زور سے منوانے کی کوشش کرے اور اس اختلاف کو بنرور باز و دور کرنا چاہے ورنہ ہر گھر میں مختلف طبائع