انوارالعلوم (جلد 18) — Page 186
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۸۶ آئندہ الیکشنوں کے متعلق جماعت احمدیہ کی پالیسی دوسری مسلمان جماعتیں ایسا نہ کریں گی تو مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کمزور ہو جائے گی اور ہندوستان کے آئندہ نظام میں ان کی آواز بے اثر ثابت ہوگی اور ایسا سیاسی اور اقتصادی دھکہ مسلمانوں کو لگے گا کہ اور چالیس پچاس سال تک ان کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا اور میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی عقلمند آدمی اس حالت کی ذمہ داری اپنے پر لینے کو تیار ہو۔پس میں اس اعلان کے ذریعہ سے پنجاب کے سوا ( جس کی نسبت میں آخر میں کچھ بیان کروں گا ) تمام صوبہ جات کے احمدیوں کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی جگہ پر پورے زور اور قوت کے ساتھ آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ کی مددکر میں اس طرح کہ : ا۔جس قد راحمدیوں کے ووٹ ہیں وہ اپنے حلقہ کے مسلم لیگی امید وار کو دیں۔۲۔میرا تجربہ ہے کہ احمدیوں کی نیکی اور تقویٰ اور سچائی کی وجہ سے بہت سے غیر احمدی بھی ان کے کہنے پر ووٹ دیتے ہیں۔پس میری خواہش یہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ پنجاب کے باہر کے تمام احمدی اپنے ووٹ مسلم لیگ کو دیں بلکہ جو لوگ ان کے زیر اثر ہیں اُن کے ووٹ بھی مسلم لیگ کے امیدواروں کو دلائیں۔۔ہماری جماعت چونکہ اعلیٰ درجہ کی منظم ہے اور قربانی اور ایثار کا مادہ ان میں پایا جاتا ہے اور جب وہ عزم سے کام کرتے ہیں تو حیرت انگیز طور پر لوگوں کے دلوں کو ہلا دیتے ہیں۔میں ہر احمدی سے یہ بھی خواہش کرتا ہوں کہ وہ اپنے حلقہ اثر سے باہر جا کر اپنے علاقہ کے ہر مسلمان کو آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ کے حق میں ووٹ دینے کی تلقین کرے اور اس قدر زور لگائے کہ اُس کے حلقہ اثر میں مسلم لیگ امیدوار کی کامیابی یقینی ہو جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ احمدی جماعت کے تمام افراد کیا مرد اور کیا عورتیں ، مرد مردوں تک پہنچ کر اور عورتیں عورتوں کے پاس جا کر اُن کے خیالات درست کرنے کی کوشش کریں گے اور اس امر کو اِس قدرا ہم سمجھیں گے کہ تمام جگہوں پر مسلم لیگ کے کارکنوں کو یہ محسوس ہو جائے کہ گویا احمدی یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ کا امیدوار کھڑا نہیں ہوا بلکہ کوئی احمدی امیدوار کھڑا : ہے اور اس کام میں مقامی مسلم لیگ کے ساتھ پوری طرح تعاون کریں گے اور جائز ہوگا کہ وہ اس کے ممبر ہو جائیں اگر ان کے نزدیک اور مسلم لیگ کے کارکنوں کے نزدیک ان کا شامل ہونا ہوا