انوارالعلوم (جلد 18) — Page 170
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۷۰ نیکیوں پر استقلال اور دوام کی عادت ڈالیں باتوں کا علم نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ تو عالم الغیب ہے اُسے انسان کی ہر حالت کا علم ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کون کون مسجد میں آیا ہے اور کون کون نہیں آیا۔لیکن اگر بفرض محال اللہ تعالیٰ یہ فیصلہ کر لے کہ میں آج مسجد میں جھانکوں گا تو گو اللہ تعالیٰ تو قادر مطلق ہے اُس کے لئے تو یہ خیال بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ کسی وقت نہ دیکھے لیکن اگر محال کے طور پر فرض بھی کر لیا جائے کہ اللہ الی اپنے علم کو روک دے اور مسجد میں نہ دیکھے تو بھی نقصان اُسی شخص کا ہوا جو نماز کے لئے نہیں آیا کیونکہ وہ نماز کے ثواب سے محروم ہو گیا۔اور میرے نزدیک تو مسجد میں نہ آنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص اپنی آنکھیں پھوڑ ڈالے یا اپنے کانوں کو بند کر دے یا اپنی زبان کاٹ ڈالے یا اپنے دانت تو ڑ دے یا اپنی ناک کاٹ لے۔جو شخص اپنے ان اعضاء کو کا تنا ہے وہی دُکھ اُٹھا تا ہے۔اسی طرح نمازیں بھی انسان کے روحانی اعضاء ہیں۔نمازوں میں سستی کرنا اپنے روحانی اعضاء کو کاٹنے کے مترادف ہے اور اگر کسی ایسے شخص کو جو نہ آنکھیں رکھتا ہو، نہ کان رکھتا ہو، نہ ناک رکھتا ہو، نہ زبان رکھتا ہو، نہ ہاتھ رکھتا ہو جنت میں بھی داخل کر دیا جائے تو وہ اس سے کیا فائدہ اُٹھائے گا۔جیسے کسی کو لے لنگڑے اور اندھے شخص کو شالا مار باغ میں بٹھا دیا جائے تو وہ اُس سے کیا لطف حاصل کر سکے گا۔اسی طرح جس شخص کے روحانی اعضاء کام نہیں کرتے تو اُسے اگر جنت میں بھی داخل کر دیا جائے تو وہ جنت سے کیا لطف اُٹھائے گا۔گو ایسے آدمی کا جس کے روحانی اعضاء کام نہ کرتے ہوں جنت میں جانا ناممکن ہے لیکن اگر فرض کر لیا جائے کہ کوئی شخص فرشتوں کو دھوکا دے کر جنت میں چلا بھی جائے تو وہ اندھا لنجا اور لنگڑ اشخص جنت میں جا کر کیا کرے گا۔اس کی آنکھیں نہیں کہ جنت کے نظاروں کو دیکھ سکے ، اُس کے کان نہیں کہ جنت کی عمدہ آوازوں کوسن سکے ، اُس کی زبان نہیں کہ جنت کے ثمرات کو چکھ سکے ، اُس کے ہاتھ نہیں کہ کسی کو چھو کر اُس کی لطافت کو محسوس کر سکے جنت سے تو وہی لطف اُٹھا سکتا ہے جس کی نمازیں با قاعدہ ہوں، جس کے چندے با قاعدہ ہوں، اور وہ تقویٰ کی تمام راہوں پر گامزن ہو کیونکہ یہی چیزیں ہیں جو انسان کے روحانی اعضاء ہیں۔جس نے ان میں سستی اختیار کی گویا اُس نے اپنے روحانی اعضاء کاٹ ڈالے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے من كان في هذه أعْمَى فَهُوَ فِي الآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِیلا سے کہ جو شخص اس دنیا میں روحانی طور پر