انوارالعلوم (جلد 17) — Page 54
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴ کسی زمانہ میں سلیمان کو نمونہ بنایا، کسی زمانہ میں اسحاق اور اسماعیل کو نمونہ بنایا اور کسی زمانہ میں حضرت عیسی علیہ السلام کو نمونہ بنایا اسی طرح آخری زمانہ میں خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک نفس لے آؤ تو میں تمہیں نجات دے دونگا۔غرض خدا تعالیٰ نے ایک طرف خریداری کا اعلان کر دیا اور دوسری طرف ایک نمونہ بھی بھیج دیا۔جیسے مختلف ایسوسی ایشنز میں مختلف نمونے رکھے ہوئے ہوتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس ایسوسی ایشن کے ساتھ اگر سو دامے کرنا ہے تو اس کے تجویز کردہ نمونہ کے مطابق جنس لے آؤیا اگر نمونہ کے مطابق نہیں تو اس کے قریب قریب ضرور ہو۔مگر اللہ تعالیٰ چونکہ بڑا رحیم وکریم ہے اس لئے اُس نے دُنیوی ایسوسی ایشنز سے مختلف طریق رکھا ہوا ہے۔یہ ایسوسی ایشنز قریب کے اور معنی لیتی ہیں اور اللہ تعالیٰ قریب کے اور معنی لیتا ہے۔یہ تو قریب کے یہ معنی لیتی ہیں کہ ہیں کی جگہ ہم پونے میں بھی قبول کر لیں گی مگر اللہ تعالیٰ چونکہ بہت ہی رحیم و کریم ہے اس لئے وہ ہیں کی جگہ سات آٹھ بھی قبول کر لیتا ہے اور اس کے نزدیک یہ بھی قریب قریب کے حکم میں ہی ہوتا ہے۔صرف ایک حد تک مشابہت اس چیز میں موجود ہونی چاہیئے گویا ایک حد تک جب اعمال میں اصلاح ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے انسان کو قبول فرما لیتا ہے اور کہتا ہے یہ چیز بھی ویسی ہی ہے۔مسئلہ شفاعت کی حقیقت یہ جو نمونہ کا مسئلہ ہے اسی کو مسئلہ شفاعت بھی کہتے ہیں۔لوگ اپنی نادانی اور حماقت کی وجہ سے شفاعت پر بڑے بڑے اعتراض کرتے ہیں حالانکہ شفاعت کا مسئلہ ایسا ہی ہے جیسے کاٹن ایسوسی ایشنز یا گرین ایسوسی ایشنز اپنی طرف سے بعض لوگوں کو نمائندہ مقرر کر دیتی ہیں جو آرٹ مینز کہلاتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ گندم نمونہ کے مطابق ہے یا نہیں یا روئی کا جو نمونہ دکھایا گیا تھا اُس میں اور مہیا کردہ روئی میں کتنا فرق ہے۔یا کھانڈ کا جو نمونہ دکھایا گیا تھا اُس کے مطابق کھانڈ مہیا کی گئی ہے یا نہیں اور پھر جو بھی وہ فیصلہ کرتے ہیں اُس کو قبول کر لیا جاتا ہے۔اگر تو وہ کہتے ہیں کہ نمونہ میں اور مہیا کر دہ چیز میں بہت بڑا فرق ہے تو اُسے رڈ کر دیا جاتا ہے اور اگر وہ کہتے ہیں یہ چیز نمونہ سے ملتی جلتی ہے تو اُسے قبول کر لیا جاتا ہے۔یہی اصول اللہ تعالیٰ نے عالم روحانیات میں