انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 55 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 55

انوار العلوم جلد کا ۵۵ رکھا ہوا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے جو نمونہ رکھا ہے وہ بولنے والا ہے۔دنیا میں کپاس بول کر نہیں کہتی کہ فلاں کپاس میرے جیسی ہے اسی لئے کپاس کی طرف سے کوئی آدمی کھڑا کیا جاتا ہے جو بتاتا ہے کہ یہ کپاس نمونہ کے مطابق ہے یا نہیں۔گندم یا جوار نہیں کہتی کہ فلاں گندم یا جوار میرے جیسی ہے اسی وجہ سے گندم یا جوار کی طرف سے ایک شخص مقرر کیا جاتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے کہ گندم نمونہ کے مطابق ہے یا نہیں۔مگر اللہ تعالیٰ دنیا میں جو نمونے بھیجتا ہے وہ بولنے والے ہوتے ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن ہر قوم کا نبی آئے گا اور وہ اپنی اپنی قوم کو دیکھے گا اگر تو وہ کہہ دے گا کہ یہ میرے جیسے ہی ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کو قبول کر لے گا اور فرمائے گا کہ گو ان میں کچھ کمزوریاں پائی جاتی ہیں لیکن چونکہ انہوں نے نبی کے نمونہ کے مطابق اپنے آپ کو بنانے کی کوشش کی تھی اس لئے یہ بھی نمونہ کے قریب قریب ہیں۔لیکن اگر نبی یہ کہے گا کہ فلاں شخص مجھ سے نہیں ملتا تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل نہیں کرے گا یے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا بھی یہی مفہوم ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ تمام دنیا کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اس لئے آپ کی شفاعت یقیناً سب نیبوں کی شفاعت سے زیادہ ارفع اور زیادہ اعلیٰ ہوگی۔آپ قیامت تک تمام زمانوں کے لئے نمونہ کے طور پر پیدا کئے گئے ہیں اس لئے قیامت کے دن آپ لوگوں کے قلوب کو دیکھیں گے کہ انہوں نے کہاں تک محمدی نقش کو قبول کیا ہے۔اگر اُن میں کچھ کمزوریاں، کچھ غلطیاں اور کچھ کو تا ہیاں پائی جاتی ہونگی لیکن بحیثیت مجموعی انہوں نے کوشش کی ہوگی کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے بن جائیں تو جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے قلوب کو دیکھیں گے تو فرما ئیں گے یہ بھی مجھ سے ملتے جلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ہم تمہاری اس شفاعت کی وجہ سے ان کو جنت میں داخل کرتے ہیں۔شَفَع لغت میں جوڑے کو کہتے ہیں۔پس شفاعت کا مفہوم یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے کہیں گے کہ یا اللہ ! یہ بھی میرا جوڑا ہے، یہ بھی میرا جوڑا ہے ، یہ بھی میرا جوڑا ہے پس جن لوگوں کی کمزوریوں کے باوجود اُن کا رسول قیامت کے دن یہ کہہ دے گا کہ ان کے اخلاق مجھ سے ملتے جلتے ہیں، انہوں نے نیکی میں بڑھنے کی کوشش کی