انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 576

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۷۶ الموعود اس کے سپاہی وہاں پہنچے تو گرمی کی وجہ سے انہیں شدید پیاس لگی ہوئی تھی۔انہوں نے یہ پانی پینا شروع کر دیا اور چونکہ سمندر کا پانی شدید نمکین ہوتا ہے اس لئے بجائے پیاس بجھنے کے اُن کی زبانیں باہر نکل آئیں اور اُن کی مقابلہ کی سکت بالکل جاتی رہی۔اس طرح یہ لڑائی ایک خدائی فعل کی وجہ سے دشمن کی شکست اور انگریزی فوجوں کی فتح کی صورت میں بدل گئی ورنہ انگریزوں کی کامیابی کی بظاہر کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔گویا وہی نظارہ جو خدا نے مجھے دکھایا تھا کہ میرے فائروں کی وجہ سے جرمن فوجوں کو شکست ہوئی، اس رنگ میں پورا ہو گیا کہ میری دعا کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ باوجود اس کے کہ جرمن فوجیں آگے بڑھ رہی تھیں وہ اس بات پر مجبور ہو گئیں کہ انگریزی فوجوں کے مقابلہ میں اپنی شکست کو تسلیم کر لیں۔مثالیں تو اور بھی بہت سی ہیں مگر یہ چند واقعات جو بطور نمونہ پیش کئے گئے ہیں ، یہ بھی اس بات کو ثابت کرنے کیلئے بہت کافی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جو یہ خبر دی گئی تھی کہ میں تجھے ایک ایسا لڑکا دوں گا جو علاوہ اور کمالات رکھنے کے علوم باطنی سے بھی پر کیا جائے گا ، وہ بڑی شان اور عظمت کے ساتھ پوری ہو چکی ہے۔مصلح موعود کی زمین کے کناروں تک شہرت اور اسلام کی اکناف عالم میں اشاعت ۳۔تیسری پیشگوئی یہ کی گئی تھی کہ وہ زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کی تبلیغ اُس کے ذریعہ سے مختلف ملکوں میں ہوگی۔یہ پیشگوئی بھی ایسے رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔جب خلافت کے مقام پر خدا تعالیٰ نے مجھے کھڑا کیا اس وقت جماعت کی حالت یہ تھی کہ خزانہ میں صرف چند آنے تھے اور اٹھارہ ہزار روپیہ قرض تھا۔مالی حالت ایسی کمزور تھی کہ وہ اشتہارات جو ہم غیر مبائعین کے جواب میں شائع کرنا چاہتے تھے ، اُن کے لئے بھی ہمارے