انوارالعلوم (جلد 17) — Page 577
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۷۷ الموعود پاس کوئی روپیہ نہیں تھا۔اشتہارات تو ہم لکھ سکتے تھے مگر یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اُن اشتہارات کے شائع ہونے کی کیا صورت ہوگی۔ابتداء ہونے کی وجہ سے چندہ کی تحریک بھی نہیں کی جاسکتی تھی کیونکہ ڈرتھا کہ لوگ گھبرا نہ جائیں۔اسی فکر میں میں تھا کہ ہمارے نانا جان میر ناصر نواب صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے شاید تمہیں اشتہارات کے متعلق یہ خیال ہوگا کہ اُن کی اشاعت کیلئے روپیہ کہاں سے آئے گا۔میرے پاس اس وقت دار الضعفاء کا چندہ ہے یہ لے لو جب روپیہ آئے تو واپس کر دینا۔چنانچہ اُنہوں نے پانچ سو روپیہ کی تھیلی میرے سامنے رکھ دی۔اس طرح جو چندہ ملا اُس سے وہ پہلا اشتہار شائع کیا گیا جس کا عنوان ہے۔کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے پھر ایسی حالت میں جب کہ جماعت کے بڑے بڑے لیڈر مخالف تھے اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ یہ اعلان کرایا کہ لَيُمَةِ قَنَّهُمُ الله تعالیٰ اُن کو ٹکڑے کر دے گا۔غرض ایک طرف تو یہ اعلان شائع ہوا کہ کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اور دوسری طرف یہ اعلان کر دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا اور اُن کی جمعیت کو پراگندہ کر دے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان پیدا فرما دیئے کہ نہ صرف اُس نے ہمیں اپنی حالت کو سنبھالنے کی توفیق عطا فرمائی بلکہ باہر کی جماعتوں کو مضبوط کرنے کی بھی اُس نے طاقت دی۔اُس وقت غیر مبائعین اپنے متعلق عَلَى الْإِعْلان کہا کرتے تھے کہ ہمارے ساتھ جماعت کا پچانوے فیصدی حصہ ہے اور ان کے ساتھ صرف پانچ فیصدی ہے۔مگر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں قوت عطا فرمانی شروع کر دی اور ایسے علماء اُس نے اپنے فضل سے مجھے عطا فرمائے جو ے حکم پر غیر ممالک میں نکل گئے اور اُنہوں نے وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچایا۔اس سے پہلے صرف افغانستان ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچا تھا، با قاعدہ جماعت اور کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب بے شک انگلستان گئے مگر وہاں اُنہوں نے احمدیت کا ذکر سم قاتل قرار دے دیا اِس لئے اُن کے ذریعہ انگلستان میں جو مشن قائم ہوا وہ احمدیت کی تبلیغ اور اُس کی اشاعت کا موجب نہیں ہوا۔اگر نام پھیلا تو خواجہ صاحب