انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 575 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 575

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۷۵ الموعود آخر میں پھر انگریزی فوجیں آگے بڑھیں اور اطالوی فوجیں شکست کھا کر پیچھے ہٹ گئیں۔۔ا ۱ء میں دشمن پھر آگے بڑھا اور انگریزی فوجوں کو دھکیلتا ہوا مصر کی سرحد پر لے آیا اور اء کے آخر میں انگریز پھر بڑھے اور دشمن کی فوجوں کو شکست دیتے ہوئے کئی سو میل تک لے گئے۔جون ۱۹۴۲ء میں پھر دشمن کی فوجیں انگریزی فوجوں کو دھکیل کر مصر کی سرحد پر لے آئیں اور ایسا شدید حملہ کیا کہ العالمین ۲۹ کے مقام پر انگریزوں کی حالت ایسی نازک ہوگئی کہ اُن کا بچنا مشکل نظر آتا تھا۔مسٹر چرچل خود اس محاذ پر پہنچے اور انگریز مد برین کو سخت فکر لاحق ہو گیا۔مگر اُس وقت جب انگریز یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم آب شکست کھا جائیں گے، العالمین کی جنگ سے چند دن پہلے میں نے اپنے خطبہ میں اعلان کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اس قسم کا رویا دکھایا ہوا ہے اس کے مطابق میں سمجھتا ہوں کہ آخری حملہ میں انگریزوں کو ہی کامیابی ہوگی۔چنانچہ چند دن کے اندر اندر العالمین کے مقام پر دشمن کو اللہ تعالیٰ نے ایسے رنگ میں شکست دی که خود انگریز حیران رہ گئے کہ حالات میں یکدم یہ کیسا غیر متوقع تغیر پیدا ہو گیا ہے۔العالمین کے مقام پر انگریزوں کی حالت اتنی خراب ہو چکی تھی کہ اس بات کا شدید خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ انگریز اس مقابلہ میں رہ جائیں گے۔یہاں تک کہ ایک دن دشمن فوجوں نے انگریزی صفیں توڑ ڈالیں اور وہ اپنے ٹینک اور فوجی آگے لے آئے۔قریب تھا کہ انگریز بالکل شکست کھا جاتے کہ انگریزی فوج کا ایک تازہ دم دستہ جو مدد کے لئے آیا تھا وہ آگے بڑھا اور اُس سے کچھ مڈ بھیڑ ہوئی۔ابھی تھوڑی دیر ہی لڑائی ہوئی تھی کہ یکدم مخالف فوج کے ٹینک پیچھے ہٹ گئے اور باقی سپاہیوں نے مقابلہ کرنا بند کر دیا۔جب انگریزی فوج کے سپاہی اُن کے پاس پہنچے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اُن کی زبانیں لٹکی ہوئی ہیں ، حلق خشک ہیں اور ایسی بُری حالت میں ہیں کہ ایک منٹ کے مقابلہ کی بھی وہ اپنے اندر تاب نہیں رکھتے۔واقعہ یہ بتایا جاتا ہے کہ جب دشمن کی فوج انگریزی صفوں کو تو ڑ کر آگے بڑھی تو اُس نے ایک پمپ پر قبضہ کر لیا۔لیکن چونکہ خدا نے اُس کو شکست دینی تھی اس لئے ایسا اتفاق ہوا کہ انگریز افسروں نے پمپ کا تجربہ کرنے کیلئے اُس میں سمندر کا نمکین پانی چھوڑا ہوا تھا کیونکہ میٹھا پانی قیمتی ہوتا ہے اور اُسے تجربوں پر ضائع نہیں کیا جا سکتا۔دشمن فوج کو اس کا علم نہیں تھا جب