انوارالعلوم (جلد 17) — Page 574
انوار العلوم جلد کا ۵۷۴ الموعود تیزی سے گھر کی طرف آتا ہوں اور گھر پہنچ کر میاں بشیر احمد صاحب کی تلاش کرتا ہوں وہ مجھے ملے تو میں نے اُن سے کہا ہم فوج میں تو داخل نہیں ہو سکتے مگر ہمارے پاس رائفلیں اور بندوقیں ہیں وہی لے کر ہم اپنے طور پر دشمن پر حملہ کر دیں یہ کہ کر میں اُن کو ساتھ لے کر گیا ہوں۔خواب کا نظارہ بھی عجیب ہوتا ہے۔اُس وقت گولڑا ئی ہال میں ہو رہی ہے مگر ہم باہر کھڑے ہو کر اندر کا تمام نظارہ دیکھ رہے ہیں اور ہال کی دیوار میں اس نظارہ میں روک نہیں بنتیں۔وہاں ایک جھاڑی دیکھ کر میں لیٹ گیا یا دوزانو ہو گیا اور میں نے کچھ فائر کئے۔یہ یاد نہیں کہ میاں بشیر احمد صاحب نے بھی کوئی فائر کیا ہے یا نہیں۔بہر حال میں نے دیکھا کہ ان فائروں کے بعد انگریزی فوج اٹلی والوں کو دبانے لگی اور اُنہوں نے پھر اُنہی سیڑھیوں پر واپس چڑھنا شروع کر دیا جن پر سے وہ اتری تھی۔دشمن کی فوج پیچھے ہٹتے ہوئے نہایت سختی سے مقابلہ کرتی ہے مگر پھر بھی انگریزی فوج اُسے دباتے ہوئے سیڑھیوں تک لے گئی اور پھر اُسے ہٹاتی ہوئی دوسرے سرے تک چڑھ گئی۔جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو اُس وقت مجھے آواز آئی کہ ایسا دو تین بار ہو چکا ہے۔گویا دو تین دفعہ دشمن اسی طرح انگریزی فوج کو دبا کر لے آیا ہے اور پھر انگریزی فوج اُسے دباتی ہوئی اپنے علاقہ سے باہر لے گئی ہے۔سیہ وہ وقت تھا جب لیبیا میں انگریزی فوج نے کوئی پیش قدمی نہیں کی تھی۔اٹلی کی فوجیں مصر میں تھوڑا سا آگے بڑھ آئی تھیں اور دونوں میں لڑائی ہو رہی تھی۔دوسرے دن میں نے یہ رویا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو سُنایا۔وہ اُس وقت وائسرائے کی کونسل کے اجلاس میں شامل ہونے کے لئے جارہے تھے۔جب واپس آئے تو اُنہوں نے کہا کہ میں نے آپ کے اس رویا کا علاوہ اور لوگوں کے ہز ایکسی لنسی وائسرائے کے پرائیوٹ سیکرٹری سر لیتھویٹ سے بھی ذکر کیا تھا اور اُنہوں نے اس کو سُن کر بہت تعجب کیا۔اگلے دن اُنہوں نے چوہدری صاحب کے ہاں چائے پر آنا تھا۔چوہدری صاحب نے کہا کہ انہوں نے خواہش کی تھی کہ میں یہ رو یا خود اُن کی زبان سے بھی سنا چاہتا ہوں۔چنانچہ اُن کی خواہش پر میں نے اُن سے یہ کمل رؤیا بیان کر دیا اور جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے اس جنگ میں ایسا ہی دو تین بار ہوا۔پہلے ۱۹۴۰ ء کے شروع میں اطالوی فوجیں آگے بڑھیں اور اُنہوں نے انگریزی فوجوں کو پیچھے ہٹا دیا۔لیکن ۱۹۴۰ء کے