انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 538 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 538

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۳۸ الموعود تھیں مگر میں نے اُن کو نوٹ نہ کیا۔دوسرے دن حضرت خلیفہ اول سے میں نے اس رویا کا ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ مجھے کچھ باتیں یاد تھیں مگر میں نے اُن کو نوٹ نہ کیا اور اب وہ میرے ذہن سے اُتر گئی ہیں۔حضرت خلیفہ اول پیار سے فرمانے لگے کہ آپ ہی تمام علم لے لیا کچھ یا در کھتے تو ہمیں بھی سناتے۔یہ رویا اصل میں اس حقیقت کی طرف اشارہ کر رہا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے بیج کے طور پر میرے دل اور دماغ میں قرآنی علوم کا ایک خزانہ رکھ دیا ہے۔چنانچہ وہ دن گیا اور آج کا دن آیا، کبھی کسی ایک موقع پر بھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے سورہ فاتحہ پر غور کیا ہو یا اُس کے متعلق کوئی مضمون بیان کیا ہو تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نئے سے نئے معارف اور نئے سے نئے علوم مجھے عطا نہ فرمائے گئے ہوں۔خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے قرآن کریم کے تمام مشکل مضامین مجھ پر حل کر دیئے ہیں۔یہاں تک کہ بعض ایسی آیات جن کے متعلق حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اُن کے معانی کے متعلق پوری تسلی نہیں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان آیات کے معانی بھی مجھ پر کھول دیئے گئے ہیں اور آب قرآن کریم میں کوئی بات ایسی موجود نہیں جس کے مضمون کو میں ایسے واضح طور پر نہ بیان کر سکوں کہ دشمن سے دشمن کیلئے بھی اُس پر اعتراض کرنا ناممکن ہو۔یہ علیحدہ بات ہے کہ کوئی شخص اپنی شکست تسلیم نہ کرے لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ میں قرآن کریم کے رُو سے دشمن پر حجت تمام نہ کر دوں اور اُس کے اعتراضات کا ایسا جواب نہ دوں جو عقلی طور پر مُسکت اور لا جواب ہو۔تفسیر القرآن کے متعلق دنیا کو چیلنج می میں نے اس بارہ میں بار بار لوگوں کو چیلنج دیا۔ہے کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر میں میرا مقابلہ کر لیں مگر آج تک کسی کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ قرآنی تفسیر میں میرا مقابلہ کر سکے۔اس میں کوئی حبہ نہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولوی محمد علی صاحب میرے اس چیلنج کے مقابلہ میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ لکھتے رہتے ہیں مگر واقعہ یہ ہے کہ اُن کے دلوں میں دیانتداری کے ساتھ یہ جرات نہیں پائی جاتی کہ وہ قرآن کریم کی تفسیر کے متعلق میرے چیلنج کو قبول کریں۔مولوی ثناء اللہ صاحب اس کے جواب میں یہ لکھ دیا کرتے ہیں کہ میری طرف سے صرف اتنی شرط ہے کہ بے ترجمہ