انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 537 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 537

انوار العلوم جلد کا ۵۳۷ الموعود حالانکہ ابھی ایک ہی دن اُن کو طب شروع کئے ہوا تھا۔غرض میں نے آپ سے طب بھی پڑھی اور قرآن کریم کی تفسیر بھی۔قرآن کریم کی تفسیر آپ نے دو مہینے میں ختم کرا دی۔آپ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے اور کبھی نصف اور کبھی پورا پارہ ترجمہ سے پڑھ کر سُنا دیتے۔کسی کسی آیت کی تفسیر بھی کر دیتے۔اسی طرح بخاری آپ نے دو تین مہینہ میں مجھے ختم کرا دی۔ایک دفعہ رمضان کے مہینہ میں آپ نے سارے قرآن کا درس دیا تو اس میں بھی میں شریک ہو گیا۔چند عربی کے رسالے بھی مجھے آپ سے پڑھنے کا اتفاق ہوا۔غرض یہ میری علمیت تھی مگر اُنہی دنوں جب میں یہ کورس ختم کر رہا تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا دکھایا۔قرآنی علوم کا انکشاف میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ کھڑا ہوں۔مشرق کی طرف۔میرا منہ ہے کہ آسمان پر سے مجھے ایسی آواز آئی جیسے گھنٹی بجتی ہے یا جیسے پیتل کا کوئی کٹورہ ہو اور اُسے ٹھکور میں تو اُس میں سے باریک سی ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آواز پھیلنی اور بلند ہونی شروع ہوئی یہاں تک کہ تمام جو میں پھیل گئی۔اس کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ وہ آواز متشکل ہو کر تصویر کا چوکٹھا بن گئی۔پھر اُس چوکٹھے میں حرکت پیدا ہونی شروع ہوئی اور اس میں ایک نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی تصویر نظر آنے لگی۔تھوڑی دیر کے بعد وہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور پھر یکدم اُس میں سے گود کر ایک وجود میرے سامنے آ گیا اور کہنے لگا کہ میں خدا کا فرشتہ ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہیں سورہ فاتحہ کی تفسیر سکھاؤں۔میں نے کہا سکھاؤ۔وہ سکھاتا گیا ،سکھاتا گیا اور سکھاتا گیا۔یہاں تک کہ جب وہ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَاِيّاكَ نَسْتَعِينُ ۳۲ تک پہنچا تو کہنے لگا آج تک جس قدر مفسرین گزرے ہیں ، اُن سب نے یہیں تک تفسیر کی ہے لیکن میں تمہیں آگے بھی سکھانا چاہتا ہوں۔میں نے کہا سکھاؤ۔چنانچہ وہ سکھاتا چلا گیا یہاں تک کہ ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر اُس نے مجھے سکھا دی۔جب میری آنکھ کھلی تو اُس وقت فرشتہ کی سکھائی ہوئی باتوں میں سے کچھ باتیں مجھے یاد