انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 475

۴۷۵ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) انوار العلوم جلد ۱۷ لکھا کہ یہ نہایت اعلیٰ مضامین ہیں اور شکریہ ادا کیا۔مسٹر چیمبر لین کے سیکرٹری نے ان کی طرف سے لکھا کہ یہ مضامین لکھ کر امام جماعت احمدیہ نے بہت بڑی خدمت کی ہے۔تو یہاں جو افسر ہوتے ہیں وہ چونکہ تھر ڈگر یڈ طبقہ سے عام طور پر ہوتے ہیں اس لئے ایسے مضامین بھی ان کو پسند نہیں آتے جنہیں برطانیہ کے وزیر اعظم بہت بڑی خدمت قرار دیتے ہیں اور شکر یہ ادا کرتے ہیں۔پس میں اس مضمون کو اس لئے زیادہ وضاحت کے ساتھ یہاں بیان نہیں کر سکتا کہ ہندوستان کے انگریز سیاست دان کہیں گے کہ یہ کیا بم گرا دیا گیا ہے۔مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ اب حالات بدل گئے ہیں اور دونوں کو چاہئے کہ اپنے سیاسی نقطۂ نظر میں تبدیلی کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ صلح کرنے کیلئے قدم اُٹھا ئیں۔اور میں اپنی جماعت کی طرف سے یہ اعلان کرتا ہوں کہ ہم اس بارہ میں پورا پورا تعاون کرنے کیلئے تیار ہیں۔ہندوستانیوں کی اور انگریزوں کی اور ہندوستان کی مختلف قوموں کی آپس میں صلح نہایت ضروری ہے اور اسے کرانے کیلئے ہم ہر قسم کی مدد دینے کیلئے تیار ہیں۔پرانے اختلافات کو اب نئے نقطہ نگاہ سے دیکھنا ضروری ہے۔بعض نئے فتنوں کی بنیادیں مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ بعض نئے فتنوں کی بنیادیں پیدا ہو چکی ہیں اور میں نے جو رؤیا اس بارہ میں دیکھا تھا اُس کے بعد ہی یہ سب بنیادیں بنی ہیں اور ہندوستان اور انگلستان دونوں کیلئے مشکلات پیدا ہونے والی ہیں اور دونوں کا فائدہ اسی میں ہے کہ ایک دوسرے سے صلح کر لیں۔انگلستان کو بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر غور کرنا چاہئے کہ وہ ہندوستان کو کہاں تک آزادی دے سکتا ہے اور ہندوستانیوں کو ان حالات کے پیش نظر یہ سوچنا چاہئے کہ اگر وہ انگریزوں کی کوئی بات مان لیں تو ان کے لئے بہت فائدہ ہوگا۔اور اسی طرح ہند و مسلمان بھی بدلنے والے حالات کے پیش نظر اپنے نقطہ نگاہ میں تبدیلی کر لیں تو ان کیلئے بہت اچھا ہوگا۔اور اس بات پر غور کریں کہ جب ایسے حالات پیدا ہورہے ہیں جو بہت خطرناک ہیں تو وہ اگر کسی غیر کی بجائے اپنے بھائی کو کچھ دے دیں تو کیا حرج ہے۔اس نقطہ نگاہ کے ماتحت ان کو چاہئے کہ اپنی سیاسیات میں تبدیلی پیدا کر لیں۔