انوارالعلوم (جلد 17) — Page 476
انوار العلوم جلد ۷ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) ہند و سیاست کی مجھے بھی سمجھ نہیں آئی ہندوؤں کی سیاست کی مجھے بھی سمجھ نہیں آئی۔جب ملک میں ان کی اکثریت ہے اور ایک مسلمان کے مقابلہ میں تین ہندو ہیں تو ان کو مسلمانوں سے کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔بہر حال اب وقت ایسا ہے کہ سب اختلافات کو نظر انداز کر کے صلح کی طرف قدم بڑھانا چاہئے۔(ماخوذ از رجسر فضل عمر فاؤنڈیشن ) حلف الفضول کے اصول اب میں اپنے ایک رؤیا کی طرف دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں جو جولائی ۱۹۴۴ء میں میں نے دیکھا اور جو الفضل میں شائع ہو چکا ہے۔” میں نے دیکھا کہ میں گویا اپنی اولا د کو مخاطب کر کے کچھ کہہ رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ جس طرح حلف الفضول رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں ہوتی تھی ایسا ہی ایک معاہدہ میری اولا دکرے۔تو اس کے نتیجہ میں اُس پر خدا کے فضل خاص طور پر نازل ہوں گے اور وہ کبھی تباہ نہ ہوگی۔‘۵ حلف الفضول ایک معاہدہ تھا جو رسول کریم علیہ کے زمانہ میں بعض لوگوں نے آپس میں کیا تھا۔اس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین ایسے آدمی تھے جن کے نام فضل تھے اور اسی وجہ سے اسے حلف الفضول کہتے ہیں۔اس کا مقصد یہ تھا کہ حلف الفضول والے مل کر یا اکیلے اکیلے مظلوم کا حق دلوایا کریں گے۔رسول کریم ﷺ نے اُس زمانہ میں ابھی دعوی نہیں کیا تھا ایک شخص آپ کے پاس آیا اور اُس صلى الله نے تحریک کی کہ آپ بھی اس میں شریک ہوں۔آپ نے فرمایا کہ یہ ایک نیک کام ہے اور میں اس میں ضرور شامل ہوں گا۔چنانچہ آپ اس میں شامل ہوئے اور آپ اس کی پوری طرح پابندی کرتے رہے۔حتی کہ جب آپ نے دعوی کیا اور اہل مکہ آپ کی مخالفت کر رہے تھے تو اُس زمانہ میں کسی گاؤں کا ایک آدمی مکہ میں آیا جس سے ابو جہل نے کوئی مال خریدا تھا اور وہ