انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 445

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۴۵ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) مشتر کہ خرچ سے لاکھ دولاکھ کی تعداد میں شائع کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔میں تو فیصلہ کے کئی طریق پیش کرتا ہوں مگر وہ پہلے کھڑے ہو کر میں نہ مانوں میں نہ مانوں کہہ دیتے ہیں اور بجائے کسی فیصلہ کے لئے تیار ہونے کے میرے متعلق سخت کلامی پر اتر آتے ہیں حالانکہ میں نے ان کے متعلق کبھی سخت کلامی نہیں کی۔وہ کئی بار مجھے یزید کہہ چکے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ اس پر بُرا منانے کی کوئی وجہ نہیں۔یزید ایک بادشاہ تھا یہ تو عزت افزائی ہے اور اتنا نہیں سوچتے کہ نمرود اور فرعون بھی تو بادشاہ تھے اگر اُن کو ان ناموں سے مخاطب کیا جائے تو کیا وہ خوش ہوں گے اور اسے اپنی عزت افزائی سمجھیں گے یا بُر امنا ئیں گے۔پس اس وقت جو غیر احمدی یا غیر مسلم دوست بیٹھے ہیں میں ان کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ان میں سے کوئی صاحب ایسے ہوں جو ان پر کوئی اثر رکھتے ہیں تو وہ ان کو توجہ دلائیں کہ ان طریقوں میں سے کسی کے مطابق فیصلہ کرلیں اور نہیں تو وہ جسے مامور الہی سمجھتے ہیں اُس کی تحریر پر دستخط کر دیں۔۳۔پھر ایک اور طریق فیصلہ کا بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے زمانہ میں انہوں نے عدالت میں ایک شہادت دی تھی وہ ان کی اپنی شہادت ہے میری نہیں وہ اُسی پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ آج ان کا عقیدہ وہی ہے میں اُس پر دستخط کر دوں گا اور لکھ دوں گا کہ میرا عقیدہ بھی یہی ہے۔گویا ان کے اپنی ہی شہادت پر دستخط کر دینے سے بات ختم ہو جاتی ہے۔یہ کیسے سہل طریق ہیں اور جائز اور تقویٰ کے مطابق ہیں مگر وہ ان کی طرف نہیں آتے اور عجیب عجیب شرطیں پیش کرتے رہتے ہیں۔مثلاً یہ کتنی عجیب بات ہے کہ میرے وکیل وہ مقرر کریں اور اُن کے میں کروں۔اس طرح تو بٹیر لڑانے والے بھی نہیں کرتے کہ میرا بیٹرا تو لڑا اور تیرا میں لڑاؤں اور جوطریق بیٹر باز بھی اختیار نہیں کرتے میں دینی امور کے بارہ میں اُسے کس طرح اختیار کرلوں۔اب میں اس سال کے بعض کاموں پر روشنی ڈالنا چاہتا ہوں تا جماعت کو مجموعی طور پر ان