انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 423 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 423

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۳ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات کیا ہے۔پس میں لجنہ مرکزیہ کو ایک مہینہ تک کی مہلت دیتا ہوں کہ اس مہینہ کے اندر اندر یعنی جنوری ۱۹۴۵ء ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں۔دفتر کے لئے زمین بھی خریدی جا چکی ہے جو امم طاہر مرحومہ کی یاد گار ہے اس کی قیمت قرض لے کر ادا کر دی تھی۔یہ جگہ دار الانوار کو جاتے ہوئے پر لیس کے قریب ہے جہاں سٹرک کا موڑ ہے وہاں لجنہ کے دفاتر اچھی طرح بن سکتے ہیں۔یہ جگہ خالص احمدی علاقہ میں ہے جہاں عورتوں کو جمع ہونے میں کوئی تکلیف نہیں ہو سکتی اور پھر صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر بھی وہاں سے قریب ہیں جہاں سے ضرورت کے موقع پر ہر قسم کی معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔جنگ کی وجہ سے پیدا ھمد ہ مشکلات کی وجہ سے ہم فی الحال وہاں پر عمارت تو نہیں بنا سکتے زمین وقت پر ملک عمر علی صاحب سے خرید لی گئی تھی جو اُس وقت ملک صاحب نے سلسلہ کی خاطر قربانی کر کے چار ہزار روپیہ میں دیدی تھی جو اُس وقت کی قیمتوں کے لحاظ سے بھی سستی تھی اگر وہ اس سے زیادہ قیمت کا مطالبہ کرتے تو ان کا حق تھا۔میں نے اُم طاہر مرحومہ سے کہا کہ تم ملک صاحب سے کہو کہ سلسلہ کے لئے اس زمین کی ضرورت ہے بغیر کسی نفع کے وہ یہ زمین سلسلہ کے لئے دیدیں۔چنانچہ اُنہوں نے بغیر کسی نفع لئے دیدی حالانکہ اُس وقت بھی اس کی قیمت اس رقم سے زیادہ تھی جو انہوں نے لی اور اب تو موجودہ قیمتوں کے لحاظ سے وہ چھپیں تیس ہزار روپیہ کی ہے۔اگر جنگ کے بعد وہاں عمارت بنائی جائے تو میرا ندازہ ہے کہ تھیں چالیس ہزاز روپیہ عمارت پر خرچ آئے گا جس میں کچھ کمرے دفاتر کے لئے مخصوص ہوں ، تقریروں وغیرہ کے لئے ایک ہال ہو جس میں ہزار ڈیڑھ ہزار عورتیں جمع ہو کر اپنے اجلاس وغیرہ کرسکیں ، کچھ کمرے بطور مدرسہ کے ہوں، کچھ کواٹر بن جائیں تا کہ دفاتر وغیرہ میں کام کرنے والیاں وہاں رہ سکیں ، ایک لائبریری بھی ہو ان سب کاموں کے لئے کم از کم پندرہ بیس کمرے ہوں اور ایک ہال ہو جس میں اجلاس وغیرہ ہوسکیں۔میرا اندازہ ہے کہ غالباً ت میں چالیس ہزار روپیہ اس عمارت پر خرچ آئے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت کی مستورات کے لئے اس رقم کا جمع کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔میں نے دیکھا ہے باوجود اس کے کہ گو ہماری جماعت کی مستورات دوسری مستورات سے تعلیم میں زیادہ نہیں ہیں مگر ان کے اندر خدا کے فضل سے قربانی کی ایسی روح اور ایسا اخلاص پایا جاتا ہے کہ چندہ کی جو تحریک بھی ان کے سامنے پیش کی جائے فورا ہی وہ تحریک کامیاب ہو جاتی ہے۔