انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page iv

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ محض اللہ تعالی کے فضل و احسان اور اُس کی دی ہوئی توفیق سے فضل عمر فاؤ نڈیشن کو سید نا حضرت المصلح الموعود خلیفتہ المسیح الثانی کی حقائق و معارف سے بھر پور سلسلۂ تصانیف انوار العلوم کی سترہویں جلد احباب جماعت کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل ہورہی ہے۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ انوار العلوم کی جلد ھذ ا سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ المسیح الثانی کی ۲۶ دسمبر ۱۹۴۳ء سے ۲۸؍ دسمبر ۱۹۴۴ ء تک کی ۲۲ تقاریر و تحریرات پر مشتمل ہے۔یہ عرصہ جماعت احمدیہ کی تاریخ میں کئی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی جناب سے حضرت امام الزمان مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پسر موعود کی جو عظیم الشان پیش خبری عطا فرمائی تھی اس پیشگوئی کے پورا ہونے اور جناب الہی کی طرف سے دنیا پر اس کے اعلان کا وقت آ گیا۔اگر چہ حضرت مصلح موعود اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان خوشخبری کے تحت پیدا ہوئے اور روزِ اوّل سے آپ ہی اس پیشگوئی کے مصداق تھے لیکن آپ نے کسر نفسی کی وجہ سے اس کا اظہار نہ فرمایا لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی خبر دی تو پھر اس اذنِ الہی کا آپ نے پر شوکت اعلان فرمایا۔جنوری ۱۹۴۴ ء میں جب حضرت خلیفہ المسیح الثانی اپنی حرم حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ