انوارالعلوم (جلد 17) — Page v
کی بیماری کے سلسلہ میں لاہور میں مقیم تھے تو ہم جنوری کی رات حضرت شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کی کوٹھی واقع ۱۳ ٹمپل روڈ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لمبی رؤیا سے نوازا جس سے آپ پر انکشاف کیا گیا کہ آپ ہی وہ پسر موعود اور مصلح موعود ہیں جس کی خوشخبری ۵۸ سال پہلے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء والی پیشگوئی میں دی گئی تھی۔اس الہی انکشاف کے بعد حضرت مصلح موعود جب قادیان تشریف لائے تو ۲۸ / جنوری ۱۹۴۴ء کو مسجد اقصیٰ میں خطبہ جمعہ میں آپ نے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا اور اپنی رؤیا کی تفصیلات احباب جماعت کے سامنے بیان کرتے ہوئے یہ پُر شوکت اعلان فرمایا کہ: میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں“۔اکناف عالم تک شہرت پانے والی اس پیشگوئی کے پر شوکت اظہار کیلئے ۱۹۴۴ء میں حضرت مصلح موعود نے ہوشیار پور، لاہور ، لدھیانہ اور دہلی میں جلسہ ہائے عام سے خطاب فرمایا اور اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا بالبداہت اعلان فرمایا۔چنانچہ اس سلسلہ میں پہلا پبلک جلسه ۲۰ فروری ۱۹۴۴ء کو ہوشیار پور میں منعقد ہوا جہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس عظیم الشان پیشگوئی سے نوازا تھا۔اس جلسہ میں حضور نے تفصیل سے پیشگوئی اور اپنی رؤیا کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کے مصداق ہونے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ میں نے کشفی حالت میں کہا اَنَا الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ مَثِيْلُهُ وَ خَلِیفَتُهُ اور میں نے اس کشف میں خدا کے حکم سے یہ کہا کہ میں وہ ہوں جس کے ظہور کے لئے اُنیس سو سال سے کنواریاں منتظر بیٹھی ہیں۔پس میں خدا کے حکم کے ماتحت قسم کھا کر یہ اعلان کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا