انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxxi of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxxi

انوار العلوم جلد کا ۲۴ تعارف کتب اطلاع ملنے پر ان کے متعلق تازہ صورتحال سے احباب جماعت کو مطلع فرمایا اور ان کی یورپ کے متعددممالک میں خدمات کی روشنی میں ذکر خیر کرتے ہوئے ان کی درازی عمر کیلئے دعا کی تحریک فرمائی۔دعوی مصلح موعود کے بعد غیر مبائعین کی طرف سے پیدا ہونے والی مخالفت اور فتنہ پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے جماعتی ترقی کیلئے مفید قرار دیا اور جماعت کو صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے کی تلقین فرمائی۔۴۔مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے موصولہ مقابلہ کے چیلنج پر سیر حاصل تبصرہ اور محاسبہ کرتے ہوئے ان کے چیلنج کا بطلان ثابت کیا۔۵۔مذکورہ بالا تمام امور بیان کرنے کے بعد حضور انور نے دورانِ سال جماعت پر نازل ہونے والے افضال الہی کا روح پرور تذکرہ فرمایا۔(۲۲) الموعود حضرت الصلح الموعود خلیقة لمسیح الثانی نے یہ معرکۃ الہ راء خطاب مو رحمہ ۲۸ رودسمبر ۱۹۴۲ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر ارشاد فرمایا جس میں اپنے دعوی مصلح موعود پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے حضور نے نہ صرف پیشگوئی مصلح موعود کا پورا ہونا قطعی دلائل اور واقعات سے روز روشن کی طرح ثابت کیا بلکہ مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کے اعتراضات کا رڈ بھی نہایت عمدہ طور پر فرمایا۔حضور نے اس خطاب کے آخر پر احباب جماعت کو اُن کی بعض نئی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ:۔”آپ لوگ جو میرے اس اعلان کے مصدق ہیں آپ کا اولین فرض یہ ہے کہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کریں اور اپنے خون کا آخری قطرہ تک اسلام اور احمدیت کی فتح اور کامیابی کے لئے بہانے کو تیار ہو جائیں۔بیشک آپ لوگ خوش ہو سکتے ہیں کہ خدا نے اس پیشگوئی کو پورا کیا بلکہ میں کہتا ہوں آپ کو یقینا خوش ہونا چاہئے کیونکہ حضرت