انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxx of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page xxx

انوار العلوم جلد کا K ۲۳ تعارف کتب -۴- لجنہ اماءاللہ کو اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ:۔مہینہ کے اندراندریعنی جنوری ۱۹۴۵ء ختم ہونے سے پہلے وہ اپنے دفتر کو منظم کرلیں۔۵۔حضور نے لجنہ کو احمدی خواتین کی تنظیم کی نسبت بیش قیمت ہدایات سے نوازتے ہوئے فرمایا کہ:۔لجنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب اُن کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے۔پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز ، روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دئیے جائیں اور پھر تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تاکہ ان کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر اُن کو یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو با ترجمہ قرآن مجید آ جائے۔(۲۱) بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) حضرت مصلح موعود نے یہ بصیرت افروز خطاب مؤرخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۴ء کو بر موقع جلسہ سالانہ قادیان ارشادفرمایا۔اس میں حضور نے درج ذیل امور پر روشنی ڈالی ہے۔سب سے پہلے تو حضور نے دورانِ سال حضرت سیدہ اُ تم طاہر صاحبہ اور حضرت سید میر محمد اسحق صاحب کی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔" بے شک ہمیں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے مگر ہم اپنے خدا کی رضا پر راضی ہیں اور اس کے فضلوں پر یقین رکھتے ہیں“۔۲۔سلسلہ احمدیہ کے ایک کھوئے ہوئے مبلغ مولوی محمد الدین صاحب (جن کے بارہ میں مغربی افریقہ جاتے ہوئے بحری جہاز کے غرق ہو جانے سے وفات پا جانے کا گمان کیا جا رہا تھا ) کا جہاز کو پیش آمدہ حادثہ سے زندہ بچ جانا اور جاپانیوں کی قید میں ہونے کی