انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 222

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۲۲ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں سلسلہ کے کام میں ہمیشہ میرے ساتھ تعاون کرنے والی تھیں۔۲۳ سال میرے ساتھ رہیں۔ان کی وفات سے بارہ سال پہلے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی کہ ان کا آپریشن ہوگا اور پھر ان کا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔اسی طرح مجھے بتایا گیا تھا کہ جب وہ فوت ہوں گی تو دو عورتیں ان کے پاس ہوں گی۔وہ جب تک بیمار رہیں ہمیشہ ایک عورت خدمت کے لئے ان کے پاس موجود رہی مگر وفات سے چار پانچ دن پہلے اُنہوں نے اصرار کر کے ایک اور عورت کو بلوایا۔اور جب ان کی وفات ہوئی تو ایک عورت اِن کے دائیں طرف بیٹھی تھی اور دوسری بائیں طرف۔غرض اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں مرتبہ مجھے اپنے غیب سے اطلاع دی ہے اور اس طرح وہ پیشگوئی پوری ہوگئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمائی تھی کہ میرا ایک بیٹا ہو گا جس پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہوگا۔لوگوں نے کہا کہ مرزا صاحب جھوٹ بولتے ہیں ، وہ دعوی کرتے ہیں کہ خدا ان سے ہمکلام ہوتا ہے مگر در حقیقت خدا ان سے ہمکلام نہیں ہوتا۔تب خدا نے یہ عظیم الشان نشان اِن کے ہاتھ پر ظاہر فرمایا تا لوگوں پر ظاہر کرے کہ ان کا خدا سے تعلق ہے اور خدا اپنے اسرار ان پر ظاہر فرماتا ہے۔دنیا میں کون کہہ سکتا ہے کہ میرے ہاں ضرور بیٹا پیدا ہوگا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ بیٹا زندہ رہے گا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ ایک جماعت کا امام بنے گا۔پھر کون کہہ سکتا ہے کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور پھر کون کہہ سکتا ہے کہ خدا کا کلام اُس پر نازل ہوگا۔یقینا کوئی انسان ایسی باتیں اپنی طرف سے نہیں کہہ سکتا اور نہ کسی انسان کی طاقت اور قدرت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ ان باتوں کو پورا کر سکے۔پس یہ نشانات جو میرے ذریعہ سے ظاہر ہوئے انہوں نے روز روشن کی طرح ظاہر کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے مسیح نے جو خبر دی تھی وہ سچی ثابت ہوئی۔پس اے لوگو ! میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں۔میں تم سب سے کہتا ہوں کہ إنّنا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلايْمَانِ أنْ أمِنُوا بِرَتِكُمْ فَامنا۔ہم نے خدا کے مامور کو آواز دیتے سنا اور ہم اس پر ایمان لائے اور ہم آپ لوگوں سے بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ آپ اس امر پر غور کریں گے، آپ اپنی جانوں پر رحم کریں، اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں پر رحم کریں ، اپنی نسلوں پر رحم کریں اور خدا تعالیٰ کے مامور کو قبول کر کے اپنی عاقبت کو درست کر