انوارالعلوم (جلد 17) — Page 221
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۲۱ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں کوئی ضروری فون آیا ہے۔میں گیا اور رسیور اُٹھا کر مرکز سے میں نے دریافت کیا کہ مجھے کون فون کر رہا تھا ؟ ہمارا ٹیلیفون کا مرکز امرتسر ہے وہاں سے جواب آیا کہ دہلی سے آپ کی طرف فون آیا ہے۔میں نے کہا میں آ گیا ہوں دہلی سے کنکشن کر دو۔تھوڑی دیر کے بعد سر ظفر اللہ خان صاحب کی آواز آئی جو کانپ رہی تھی کہ مبارک ہو۔میں نے کہا خیر مبارک مگر مجھے پتہ نہیں لگ سکا کہ یہ کیسی مبارک ہے۔انہوں نے کہا آپ کو یاد ہے آپ نے مجھے ایک رؤیا سنایا تھا کہ امریکہ سے تار آئی ہے کہ اُس نے برطانیہ کی مدد کے لئے ۲۸ سو ہوائی جہاز بھجوائے ہیں۔میں نے کہا مجھے خوب یاد ہے۔وہ کہنے لگے مبارک ہو اس وقت تار میرے سامنے پڑی ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں کہ :۔The British Representative from America wishes that the American Government has delivered 2800 aeroplanes to the British Government۔پھرانہوں نے کہا کہ جس وقت یہ تار مجھے ملی میں نے اُسی وقت اُن سرکاری حکام کو فون کیا جن کو میں نے یہ خواب بتائی ہوئی تھی اور اُن سب کو یاد دلایا کہ دیکھو! امام جماعت احمدیہ کی جو خواب میں نے تم کو بتائی تھی وہ آج کس شان کے ساتھ پوری ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ میں نے سرکلو کو بھی فون کیا کہ تم کو معلوم ہے کہ امام جماعت احمدیہ کی میں نے تمہیں ایک خواب بتائی تھی ؟ بعض دفعہ خدا تعالیٰ انسان سے غلطی کر دیتا ہے تا کہ اُس پر زیادہ حجت ہو۔سرکلو کہنے لگے ظفر اللہ خاں ! تار تو آئی ہے مگر جہازوں کی جتنی تعداد تم نے بتائی تھی اتنی تعداد کا تار میں ذکر نہیں۔ظفر اللہ خاں کہتے ہیں میں نے کہا تمہیں کیا یاد ہے؟ وہ کہنے لگے تم نے تو ۲۸ سو ہوائی جہازوں کا ذکر کیا تھا اور تار میں ۲۵ کو ہوائی جہاز بھیجوانے کا ذکر ہے انہوں نے جلدی سے ۲۸ سو کو ۲۵ سئو پڑھ لیا۔چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کہنے لگے تمہارے پاس تار ہے وہ کہنے لگے ہاں میرے سامنے ہی پڑی ہے چوہدری صاحب کہنے لگے اسے پھر پڑھو۔سرکلو نے دوبارہ تار پڑھی تو کہنے لگے۔اوہو! ظفر اللہ خاں یہ تو ۲۸ سو ہوائی جہازوں کا ہی ذکر ہے۔یہ دو مثالیں میں نے اس امر کی بیان کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کس طرح اپنے غیب کا اظہار کیا۔ابھی میری ایک بیوی (اُم طاہر ) فوت ہوئی ہیں وہ میری نہایت پیاری بیوی تھیں