انوارالعلوم (جلد 17) — Page 198
انوار العلوم جلد ۷ ۱۹۸ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں احمدی ہو جاتا تو بالا افسر اُسے اشاروں ہی اشاروں میں سمجھاتے کہ گورنمنٹ کی نظر میں یہ فرقہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تمہیں اس میں شامل ہونے سے اجتناب اختیار کرنا چاہئے۔یہ مخالفت آخر بڑھتے بڑھتے اتنی شدید ہوئی کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی جو بچپن سے آپ کے دوست تھے اور ہمیشہ آپ سے تعلقات رکھتے تھے جنہوں نے براہین احمدیہ پر ایک زبر دست ریویو بھی لکھا تھا وہ بھی آپ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنتہ میں یہ الفاظ لکھے کہ میں نے اس شخص کو بڑھایا تھا اور اب میں ہی اس کو گراؤں گا۔۱۳) اسی شہر لا ہور کا یہ واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مریض کی عیادت کیلئے سنہری مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور بند گاڑی میں سوار ہوئے۔اُن دنوں بند گاڑی موشکرم کہا جاتا تھا۔جب آپ دہلی دروازہ سے روانہ ہوئے تو وہاں اُن دنوں ایک چبوترہ ہوا کرتا تھا۔میں نے دیکھا کہ اس چبوترے پر کھڑے ہو کر ایک شخص شور مچار رہا تھا کہ دیکھو! یہ شخص مرتد ہے ، کافر ہے، اس پر پتھر پھینکو گے تو ثواب حاصل ہوگا اور اُس کے اردگرد بہت بڑا ہجوم تھا۔جب گاڑی قریب سے گزری تو لوگ آپ پر لعنتیں ڈالنے لگے اور آوازیں کسنے لگے۔بعض نے آپ پر پتھر بھی پھینکے اور گالیاں دینی شروع کر دیں۔میرے لئے بچپن کے لحاظ سے ایک عجیب بات تھی۔میں نے گاڑی سے اپنا سر باہر نکالا اور میں نے دیکھا کہ اُس شخص کے پاس جو یہ شور مچا رہا تھا ایک اور شخص کھڑا تھا اور بڑا سا جبہ پہنے ہوئے تھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ بھی کوئی مولوی ہے مگر اُس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور اُس پر زرد زرد ہلدی کی پٹیاں بندھی ہوئی تھیں میں نے دیکھا کو وہ بڑے جوش سے اپنے ٹنڈے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مارتا جاتا تھا اور کہتا جاتا تھا مرز اٹھ گیا ، مرز انٹھ گیا۔گویا وہ اپنے زخمی ہاتھ کو بھی دوسرے ہاتھ پر مار کر یہ سمجھتا تھا کہ وہ ایک ثواب کا کام کر رہا ہے۔پھر یہیں لاہور میں میلا رام کے منڈو ہے میں ۱۹۰۴ء میں آپ کا ایک دفعہ لیکچر ہوا۔محمود خان صاحب ڈپٹی انسپکٹر پولیس کے والد رحمت اللہ خان صاحب اُن دنوں شہر کے کوتوال تھے انہوں نے پولیس کا بڑا اچھا انتظام کیا مگر پھر بھی چاروں طرف سے انہیں اس قدر فساد کی رپورٹیں پہنچیں کہ انہوں نے چھاؤنی سے گورا سپا ہی منگوائے اور آپ کے آگے پیچھے کھڑے کر