انوارالعلوم (جلد 17) — Page 197
انوار العلوم جلد ۱۷ دے گا۔۱۹۷ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں اب یہ جو پیشگوئی ہے اس کے دو بہت بڑے اور اہم حصے ہیں۔پہلا حصہ اس پیشگوئی کا یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی تھی کہ میں تیرے نام کو دنیا کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔اب خالی بیٹا ہونے سے آپ کا نام دنیا کے کناروں تک نہیں پہنچ سکتا تھا جب تک ایسے کام آپ سے ظاہر نہ ہوتے جن سے ساری دنیا میں آپ مشہور ہو جاتے۔بعض بڑے بڑے مصنف ہوتے ہیں اور وہ ساری عمر تصنیف و تالیف میں مصروف رہتے ہیں۔اس وجہ سے اُن کا نام مشہور ہو جاتا ہے۔بعض بُرے کام کرتے ہیں اور اس وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں۔بعض بڑے بڑے چوروں اور ڈاکوؤں کے نام سے بھی لوگ آشنا ہوتے ہیں لیکن بہر حال اُن کی اچھی یا بری شہرت ساری دنیا تک نہیں ہوتی کسی ایک علاقہ یا ایک حصہ ملک میں اُن کی شہرت ہوتی ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ خبر دی تھی کہ وہ آپ کا نام دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا۔پس یہ پیشگوئی اسی صورت میں عظیم الشان پیشگوئی کہلا سکتی تھی جب آپ کی شہرت غیر معمولی حالات میں ہوتی ، چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔جب میں پیدا ہوا تو اس کے دواڑھائی ماہ کے بعد آپ نے لوگوں سے بیعت لی اور اس طرح سلسلہ احمدیہ کی بنیاد دنیا میں قائم ہوگئی۔۲۳ / مارچ ۱۸۸۹ء کو ہمارے سلسلہ کی بنیاد پڑی ہے اور اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جو حالت تھی وہ اس سے ظاہر ہے کہ تمام مسلمان آپ کے دشمن تھے۔اپنے کیا اور بیگانے کیا، رشتہ دار کیا اور غیر رشتہ دار کیا، سب آپ کی مخالفت کرنے لگ گئے یہاں تک کہ گورنمنٹ کی نظروں میں بھی آپ کا دعوی کھٹکنے لگا کیونکہ آپ نے یہ دعوی کیا تھا کہ میں مہدی ہوں اور مہدی کے متعلق مسلمانوں میں مشہور تھا کہ وہ کفار کا خون بہائے گا۔پس گورنمنٹ کو شبہ پڑا کہ ایسا نہ ہو اس کے ذریعہ دنیا میں کوئی فساد پیدا ہو۔چنانچہ گورنمنٹ کی طرف سے اُس وقت قادیان میں ہمیشہ ایک کانسٹیبل رہتا تھا اور جو شخص بھی آپ سے ملنے کے لئے آتا اُس کا نام نوٹ کر کے وہ گورنمنٹ کو اطلاع دے دیتا اور اگر کبھی کوئی سرکاری افسر