انوارالعلوم (جلد 17) — Page 195
انوار العلوم جلد ۱۷ ۱۹۵ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں پہلے ۱۸۸۶ء میں خدا تعالیٰ نے آپ کو یہ خبر دی کہ تمہارے ہاں ایک بیٹا ہوگا اور وہ یہ یہ صفات اور کمالات اپنے اندر رکھتا ہو گا جیسا کہ میں ابھی اُن کا کسی قدر تفصیل سے ذکر کروں گا۔بہر حال آپ نے یہ پیشگوئی اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت شائع فرما دی اور دنیا میں اعلان فرما دیا۔کہ میرے ہاں ایک ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اسلام کے عروج کا باعث ہوگا۔جب آپ نے یہ پیشگوئی شائع فرمائی لوگوں نے شور مچا دیا کہ بیٹا ہونا کونسی بڑی بات ہے ہمیشہ لوگوں کے ہاں بیٹے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔حالانکہ یا درکھنا چاہئے کہ جب آپ کو یہ الہام ہوا اُس وقت آپ کی عمر ۵۲ سال کی تھی اور اُس وقت آپ نے یہ بھی شائع فرما دیا تھا کہ میری اور بھی بہت سی اولا د ہوگی جن میں سے کچھ زندہ رہیں گے اور کچھ بچپن میں فوت ہو جائیں گے اور یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ چارلڑکوں کا میرے ہاں پیدا ہونا ضروری ہے۔غرض آپ نے یہ پیشگوئی اُس وقت کی جب آپ کی عمر ۵۲ سال کی تھی اور ۵۲ سال کی عمر میں خاصی تعداد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جن کی آئندہ اولا د ہونی بند ہو جاتی ہے لیکن اگر اولاد ہو بھی تو کون کہہ سکتا ہے کہ میرے ہاں بیٹے پیدا ہوں گے۔یا اگر بیٹے ہوں تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ زندہ رہیں گے۔اور اگر بعض بیٹے زندہ بھی رہیں تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ چار ضرور ہوں گے۔غرض کوئی شخص اپنی طرف سے ایسی بات نہیں کہہ سکتا جب تک خدا اسے خبر نہ دے۔بہر حال لوگوں نے اعتراض کیا کہ بیٹا ہونا کونسی بڑی بات ہے لوگوں کے ہاں ہمیشہ بیٹے پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں اور کبھی کسی نے اس کو نشان قرار نہیں دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جواب دیا کہ اول تو میری عمر اس وقت بڑھاپے کی ہے۔جوانی میں بھی انسان کی زندگی کا اعتبار نہیں ہوتا مگر بڑھاپے میں تو ایک دن کے لئے بھی انسان وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ زندہ رہے گا کجا یہ کہ وہ اس قدر لمبا عرصہ رہے کہ اُس کے ہاں چار بیٹے پیدا ہو جائیں۔پھر اصل سوال یہ نہیں کہ اس عمر میں بچے پیدا ہو سکتے ہیں یا نہیں۔بعض دفعہ سو سال کی عمر میں بھی انسان کے ہاں بچہ پیدا ہو جاتا ہے لیکن کیا اس شان کا بیٹا بھی اتفاقی طور پر پیدا ہوسکتا ہے جس شان کا بیٹا پیدا ہونے کی میں خبر دے رہا ہوں۔کیا یہ میرے اختیار کی بات ہے کہ میں بیٹا پیدا کروں اور وہ بیٹا بھی ایسا جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے اور خدا تعالیٰ کا کلام اُس پر