انوارالعلوم (جلد 17) — Page 194
۱۹۴ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں انوار العلوم جلد ۱۷ نشان دکھایا جائے۔اسی طرح قادیان کے ہندوؤں نے بھی یہ مطالبہ کیا اور مسلمانوں میں سے بہت سے لوگ ان کے ہمنوا ہو گئے۔چنانچہ انہی میں سے لدھیانہ کا ایک خاندان ہے جو اپنی مخالفت پر ہمیشہ فخر کیا کرتا ہے اُس کے خیال میں اُس کا یہ فعل قابل فخر ہے مگر ہمارے نزدیک یہ اس خاندان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ابتدا سے جماعت احمدیہ کی مخالفت کر رہا ہے۔بہر حال جب ان لوگوں نے بہت شور مچایا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ اے خدا! میرے ہاتھ پر اسلام کی تائید میں کوئی ایسا نشان دکھا جسے دیکھنے کے بعد ہر شخص یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو کہ ایسا نشان انسانی تدبیر اور کوشش سے ظاہر نہیں ہو صلى الله سکتا۔مزید برآں یہ نشان ایسا ہو جو رسول کریم ﷺ اور قرآن کریم کی حقانیت کو روشن کرے اور خدا کا جلال دنیا میں ظاہر ہو۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے آپ سے فرمایا کہ آپ ہوشیار پور جائیں اور وہاں اس مقصد کے لئے دعا کریں۔اس پر آپ صرف تین آدمیوں کے ساتھ ہوشیار پور تشریف لے گئے۔ان میں سے ایک کھانا پکاتا تھا، ایک سو دا لاتا تھا اور ایک دروازے پر بیٹھا رہتا تھا تا کہ کوئی شخص آپ سے ملنے کے لئے اندر نہ جائے۔وہاں ایک مکان میں جو اُن دنوں شیخ مہر علی صاحب ریئس ہوشیار پور کا طویلہ کہلا تا تھا آپ فروکش ہوئے۔اب یہ مکان ایک معزز ہندو دوست سیٹھ ہرکشن داس صاحب کی ملکیت میں ہے۔سیٹھ صاحب بڑے بھاری تاجر ہیں۔ان کی چین میں بھی تجارت ہے اور بعض دوسرے ممالک میں بھی ، ان کے چائے کے باغات بھی ہیں۔غرض اس کے بالا خانہ پر بیٹھ کر آپ چالیس دن مسلسل اللہ تعالیٰ سے عاجزانہ دعا کرتے رہے کہ اے خدا! اسلام کی شوکت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقانیت کے اظہار کے لئے مجھے کوئی ایسا نشان دے جولوگوں کے لئے نا قابل انکار ہو اور جس کو دیکھ کر وہی لوگ انکار کر سکیں جوضد کی وجہ سے ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔چنانچہ اُس وقت آپ پر وہ الہامات نازل ہوئے جو ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار میں درج ہیں۔جس وقت آپ نے یہ اعلان کیا اُس وقت آپ کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا نہ تھا، جبکہ جماعت احمدیہ کا وجود بھی ابھی تک قائم نہیں ہوا تھا۔یہ اشتہار ۱۸۸۶ء کا ہے اور آپ نے لوگوں سے بیعت اس اشتہار کے تین سال بعد ۱۸۸۹ ء میں لی ہے۔گویا بیعت سے تین سال